برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 14
شخص کی تلاش شروع ہوئی ، جو برطانوی حکومت کے استحکام اور عملداری کے تحفظات میں الہامات کا ڈھونگ رچا سکے، جس کے نزدیک تاج برطانیہ کے مراسلات وحی کا درجہ رکھتے ہوں ، جو ملکہ معظمہ کے لئے رطب اللسان ہو۔برطانوی حکومت کی قصیدہ گوئی اور مدح سرائی جس کی نبوت کا دیباچہ ہو۔برطانوی شد دماغوں نے ہندوستان میں ایسے شخص کے انتخاب کے لئے ہدایات جاری کیں۔پنجاب کے گورنر نے اس کام کی ڈیوٹی ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے ذمہ لگائی ، چنانچہ برطانوی معیار کے مطابق نبی کی تلاش کا کام شروع ہوا۔آخر کار قرعہ فال منشی غلام احمد قادیانی کے نام نکلا۔برطانوی ہند کی سنٹرل انٹیلی جنس کی روایت کے مطابق ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے چار اشخاص کو انٹرویو کے لیے طلب کیا۔ان میں سے مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کے لیے نامزد کیے گئے۔" کادیانیت کا سیاسی تجزیہ جلد اول صفحه ۱۴۷ ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان۔اکتوبر ۱۹۹۳ء) نوٹ : جماعت احمدیہ کے بین الاقوامی شہرت یافتہ مرکز کا نام قادیان ہے البتہ کرنال میں ایک لیستی " کادیان" ہے جس کا تحریک احمدیت سے کوئی تعلق نہیں ( ذاتوں کا انسائیکلو پیڈیا مترجم " یاسر جواد - صفحه ۲۹۹ ناشریک ہوم لاہور۔اشاعت ۲۰۰۳ء ) ملا صرف کنوئیں کا مینڈک ہے لہذا اس کی بے بصیرتی اور تعصب و عناد پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔تنقیدی زاویہ نگاہ سے ایک نظر ہے کہ: اس افتراء عظیم کی قلعی ان صاحب نے اس کتاب میں یہ اعتراف کر کے خود ہی کھول دی محمد " برطانوی وفد ایک سال یعنی ۱۸۶۹ء میں ناقل ) رہا اور حالات کا ۲۵ جائزہ لیا اور ۱۸۷ء میں وائٹ ہاؤس میں اس وفد کا اجلاس ہوا۔۔۔۔اس وفد نے 'THE ARRIVAL OF BRITISH EMPIRE IN INDIA “ کے - نام سے دور پورٹیں لکھیں۔“ (صفحه ۱۴۲) اب کیا کوئی صاحب عقل یہ باور کرنے کے لیئے تیار ہو سکتا ہے کہ برطانوی وفد کی ۱۸۷۰ء کی رپورٹ پر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو انگریزی نبی اور برطانوی ایجنٹ کے طور پر نامزد کیا جبکہ حضرت اقدس ۱۸۶۷ء میں ملازمت ترک کر کے مستقل طور پر قادیان میں خلوت نشین ہو چکے تھے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود مسلمانوں کی عظیم ریاستیں اور بیشمار مسلمان سپاہی انگریزی فوج کے دوش بدوش ملک کے دفاع اور قائم شدہ حکومت کے استحکام کیلئے مدتوں سے جان کی بازی لگائے ہوئے تھے۔ایک شاعر نے ملا کی ذہنیت کا نقشہ درج ذیل الفاظ میں کھینچا ہے اور ملت اسلامیہ کی خوب تر جمانی کی ہے۔امن وسلام و عفو کی شرح مبین اور ہے قبل وفساد و ظلم کی خونیں مشین اور ہے۔یوں تو فقیہہ شہر بھی ذکر میں طاق ہے مگر وہم و گمان اور ہے صدق و یقین اور ہے و حق یہ ہے کہ ۱۸۶۹ء میں اس نوع کا نہ کوئی سیاسی وفد برٹش انڈیا میں آیا اور نہ کسی ایسی b-b رپورٹ کا آج تک کوئی نام و نشان مل سکا ہے جس کا مدتوں سے منبر و محراب سے حوالہ دیا جا رہا ہے۔یہ محض ایک من گھڑت کہانی اور دجل و تلبیس کی بدترین مثال ہے۔عرصہ ہوا خاکسار کی کتاب ”مذہب کے نام پر فسانہ " کے ذریعہ اصل حقائق منظر عام پر آچکے ہیں۔مگر بقبول ساحر لدھیانوی نئے لباس میں ہے رہزنی کا جلوس اکاذیب کا نیا دفتر ۱۹۸۹ ء میں دنیا بھر کے احمدیوں نے قیام جماعت کا صد سالہ جشن تشکر پوری A