برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی

by Other Authors

Page 16 of 29

برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 16

٣٨ حدیث نبوی کے مطابق دجالوں کا ظہور حضرت خاتم النبین ﷺ کے مبارک الفاظ یہ ہیں : يكون في آخر الزمان دجالون كذابون ياتونكم من يضلونكم ولا يفتنونكم کا الاحاديث مالم تسمعوا انتم ولا أباء كم فاياكم واياهم لا ( راوی ابوھریرہ مسلم جلد اصفحہ ۷ ) اول المکفرین مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعت السنہ جلد ۱۳ صفحه ۱۷۴ ۱۷۵ میں یہ حدیث درج کر کے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے۔آخری زمانہ ایسے دنبال کذاب پیدا ہوں گے جو تم کو ایسی باتیں سنائیں گے جن کو تم نے نہ سنا ہو گا اور نہ تمہارے باپوں نے۔ان سے بچتے رہنا۔وہ تم کو گمراہ نہ کر دیں اور کسی بلا میں نہ ڈال دیں ، امام نووی نے شرح ! صحیح مسلم میں فرمایا ہے کہ سب نے کہا کہ جو جھوٹا ہے وہ دقبال ہے۔بعض نے کہا ہے دجال وہ ہے جو باطل پر حق کا ملمع چڑھاوے یا حق کو باطل۔ڈھانک دے؟ گیا تحریک احمدیت کی بنیاد سے ایک سال پیشتر برصغیر کے ایک بزرگ عالم سید ابو بکر شاہ آبادی نے مطبع مفید عام آگرہ سے ”کشف اللثام عن غربت اسلام کتاب شائع کی جس میں یہی حدیث نبوی درج کر کے لکھا: اس تیرہ صدی سے گویا تمام دنیا میں اب یہی ایک کام باقی رہ گیا ہے یعنی نام کے مسلمانوں میں خواہ مولوی صاحب ہوں۔۔۔سوا اباطیل عقائد وفساد احکام ومحو شعائر اسلام کے کوئی شغل دوسرا کسی شخص کو نہیں ہے۔“ (صفحہ ۱۷۱) ين ۲۹ تاریخ میں دجل و تلیس کے خوفناک اثرات مورخ پاکستان جناب ڈاکٹر مبارک علی صاحب تحریر فرماتے ہیں : ایک دفعہ جب تاریخ کو مسخ کر دیا جائے تو پھر اسے اس کے اصلی رنگ وروپ میں لانے کے لئے کئی نسلوں کی ضرورت ہوتی ہے جو تاریخ کو سمجھ کر غلط فہمیوں کو دور کر کے اور مفروضوں کو پاش پاش کر کے تاریخ کو نئے سرے سے تعمیر وتشکیل کریں۔تاریخ میں مسلسل جھوٹ کو جب ذرائع ابلاغ عامہ اور نصابی کتابوں کے ذریعہ پھیلایا جاتا ہے تو یہ طالب علموں اور عوام کے ذہن و دماغ میں بیٹھ جاتا ہے اور وہ اس کو صحیح تسلیم کر کے اس سے جذباتی لگاؤ پیدا کر لیتے Int ہیں۔اس لئے جب تاریخ سے جھوٹ نکال کر بیچ پیش کیا جاتا ہے تو ان کے ذہن اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور اس عمل میں مورخوں کو اور ایسے مورخوں کو جو اس ماحول میں رہتے ہوئے سچ کو پیش کرنے کی جرات کریں، ایک تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور اس جھوٹے کو قوم کی اجتماعی یاداشت سے نکالنے کے لئے جرات و ہمت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ مسخ تاریخ نسلوں کو تباہ کر دیتی ہے۔اس کے نتیجہ میں نفرت و تعصب پروان چڑھتا ہے، دینی ارتقاء رک جاتا ہے اور زندگی کے بارے میں محدود نقطہ نظر پیدا ہو جاتا ہے، فرقہ واریت چھوٹی قومیت اور فاشزم کی طاقتیں معاشرے میں پھیل جاتی ہیں اور عوام ان تضادات کے درمیان اس طرح گھر جاتے ہیں کہ وہ اپنے اصلی اور بنیادی مسائل کو بھول جاتے ہیں۔“ المیه تاریخ صفحه ۲۵۸ ۲۵۹ - ناشر فکشن ہاؤس ۱۸ مزرنگ روڈ لا ہور (۱۹۹۹ ء ) <<-0 3 چا 3