برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 13
نسسسنس فصل ۵ سن شنسس نسس اسلام سلام بنا لیا بلکہ اس فراڈ اعظم کو تحفظ ختم نبوت کا نام دے کر ہر تحریر ، ہر اجلاس ، ہر خطبہ اور ہر کانفرنس ا میں اس کو اس درجہ عام کر دیا ہے کہ انہیں گوئبلز کی طرح دنیا کو یہ باور کرانے میں کوئی شرم وحیا حائل نہیں کہ بانی سلسلہ در حقیقت برطانوی ایجنٹ تھے اور جماعت احمد یہ انگریزوں کی جاسوس دلچسپ فرضی کہانی ان حقائق کے باوجود ۱۹۲۳ء میں "حزب الوطنی مصری کی طرف سے مسجد احمد یہ برلن کی بنیاد کے موقع پر جرمن پریس میں یہ شر انگیز پراپیگینڈہ کیا گیا کہ بانی جماعت احمدیہ معاذ اللہ دراصل برٹش امپریلزم کے ایجنٹ تھے اور یہ مسجد انگریزوں کی مدد سے تعمیر ہو رہی ہے۔خدا کی قدرت دیکھئے ان بیانات کے بعد پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے باعث جرمنی خوفناک معاشی و اقتصادی بحران کا شکار ہو گیا اور جرمن سکہ کی قیمت نا قابل یقین حد تک گر گئی جس پر سید نا حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر نہ صرف مسجد کی تعمیر بالکل رک گئی بلکہ جرمنی کا احمدیہ مشن بھی فوراً بند کر دینا پڑا اور احمدی خواتین نے مسجد کے لئے جو چندہ جمع کیا تھا وہ سید نامحمود کے حکم پر مسجد فضل لندن کے اخراجات میں منتقل کر دیا گیا۔ازاں بعد ۸۵ سال بعد سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ یہ نے خدا کے فضلوں کا منادی بن کر ۱۹ را کتوبر ۲۰۰۸ء کو مسجد خدیجہ کا افتتاح فرمایا۔یہ عالیشان اور تاریخی مسجد حضرت مصلح موعود کی خواہش کے مطابق خالص احمدی مستورات کی بے مثال مالی قربانیوں سے تعمیر ہوئی اور اس کو ڈیزائن بھی فرنکفورٹ کی ایک خاتون مکرمہ مبشرہ الیاس صاحبہ نے کیا جو مکرم محمود احمد اختر صاحب کی صاحبزادی اور راقم الحروف کے برادر نسبتی محمد ستی زاہد صاحب ( این شاعر احمدیت مکرم ماسٹر محمد ابراہیم صاحب شاد) مقیم فرنکفورٹ کی نسبتی بہن ہیں۔وذالک فضل الله يؤتيه من يشاء اب ہمیں یہ بتانا ہے کہ حزب الوطنی مصری نے تو ۱۹۲۳ء میں وقتی طور پر مفتر یا نہ بیان جاری کیا تھا مگر آل انڈیا کانگرس کے اجلاس راوی ( دسمبر ۱۹۲۹ء) میں قائم ہونے والی کانگرس کی خود کاشتہ اور اس کی ایجنٹ پارٹی مجلس احرار نے ۱۹۳۴ء میں نہ صرف اسے باقاعدہ اپنا نعرہ عدة المسالة مجد جماعت ہے۔مضحکہ خیز تفصیل معتبر نائی کا کمال اور چابکدستی ملا حظہ ہو کہ اس نے اپنے ثبوت میں ایک سراسر جھوٹی کہانی بھی وضع کرلی ہے۔یہ کہانی دجل وافترا کا شاہکار ہے جس نے مذہب کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں خدا کے پاک سلسلوں کے خلاف خود ساختہ واقعات اور مفتریات کے سارے ریکارڈ بات کر دئے ہیں۔ایک رسوائے عالم احراری ملا طارق محمود فیصل آبادی کی زبانی اس کہانی کی ضحکہ خیز تفصیل سنئے۔ارشاد ہوتا ہے: " برٹش پارلیمنٹ اور چرچ آف انگلینڈ کے اراکین نے ایک کا نفرنس بلائی ، جس میں ہندوستان کے نمائندہ مشنریوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔برطانوی کمشن اور مشنریوں کی طرف سے ہندوستان میں مذہبی تخریب کاری کے پروگرام کی دو الگ الگ رپوٹیں تیار ہوئیں ، جن کو یکجا کر کے ہندوستان میں برطانوی سلطنت کا ورود (The Arrival of British Empire in India) کے نام سے مرتب ہوئی جدہ اسی میں علاوہ دیگر امور کے سامراجی ضروریات کی تکمیل لے لئے ایک ایسی مذہبی نبوت کی ضرورت بیان کی گئی تھی جو مسلمانوں میں اٹھ کر پروان چڑ ھے اور ان کی ہدایات پر کام کرے۔رپورٹ کو مد نظر رکھ کر تاج برطانیہ کے حکم پر ایسے موزوں اور با اعتبار www سسسس