برکاتِ خلافت — Page 82
برکات خلافت 82 88 ہیں۔اور تم دین اسلام کی خدمت میں لگے رہو۔کامیابی کا گر : قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے تمہاری کامیابی کا ایک گر بتایا ہے اور وه یه كمْ وَلَقَدْ آتَيْنَكَ سَبْعاً مِّنَ الْمَثَانِي وَ الْقُرْآنَ الْعَظِيمَ - لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِةٍ أَزْوَاجاً مِّنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ ( الحجر : ۸۸، ۸۹) آنحضرت میل کی حیثیت کے مطابق تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اے ہمارے رسول ! ہم نے تم کو سات آیتوں والی ایک سورۃ دی ہے جو کہ بار بار پڑھی جاتی ہے (اسی کی یہ دوسری صفت بیان فرمائی ہے کہ) یہ قرآن عظیم کا حصہ ہے۔یا اس کے یہ معنی ہیں کہ سورہ فاتحہ اور قرآن عظیم دیا ہے۔اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ یہ نعمت چونکہ تمہیں ملی ہے اور تو بخیل نہیں ہے بلکہ بڑا سنی ہے اس لئے تیرا دل چاہتا ہے کہ اوروں کو بھی یہی ملے مگر وہ احمق اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اس کے لینے کی کوشش نہیں کرتے اور تجھے ان کی اس بات پر افسوس آتا ہے اور تو ان کی طرف حسرت سے دیکھتا ہے کہ یہ کیوں اس سے حصہ نہیں لیتے مگر تجھے چاہئے کہ ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھ اور جو پاک جماعت ہم نے تجھے دی ہے اس کی تربیت میں لگ جاؤ۔ان کفار کی خبر ہم خود لیں گے۔چنانچہ ایک دوسری جگہ آنحضرت ﷺ کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے: " لَعَلَّكَ بَاسِعٌ نَّفْسَكَ إِلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنینَ۔“ (الشعراء:۴۰) یعنی کیا تو اس غم میں کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہوتے اپنے آپ کو ہلاک کرے گا۔آنحضرت ﷺ کو جونعمت دی گئی تھی وہ تمام دنیا کو دینا چاہتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ تمام دنیا اسے قبول کرے۔اللہ تعالی انہیں فرماتا ہے کہ اگر لوگ گمراہ ہیں تو تم کیوں غمگین ہوتے ہو تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ