برکاتِ خلافت — Page 78
برکات خلافت 78 دین کی قدر جانتے ہیں ان کے نزدیک تو انگریز مذہبی آزادی دے کر اگر دنیاوی عہدوں میں سے ایک چپڑاسی کا عہدہ بھی ہندوستانیوں کو نہ دیتے تو پھر بھی انہیں وجہ شکایت نہ ہوتی کیونکہ محسن ہر حال میں شکریہ کا مستحق ہوتا ہے اور انگریز ہمارے محسن ہیں۔غلط خیال : بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس قدر ہمیں آزادی اور آرام میسر ہے ان کے دینے پر گورنمنٹ مجبور ہے کیونکہ ملک کی ترقی میں گورنمنٹ کا اپنا فائدہ ہے اس لئے اس کا ہم پر کوئی احسان نہیں۔ہم کہتے ہیں یہ تو اسی طرح کی بات ہے جس طرح کوئی کہے کہ والدین کا مجھ پر کوئی احسان نہیں ہے انہوں نے اپنے جذبات کے پورا کرنے کے لئے ایک دوسرے سے تعلق پیدا کر لیا اور میں پیدا ہو گیا۔کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ ہر گز نہیں۔اسی طرح اس سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بے شک گورنمنٹ کا بھی اس میں فائدہ ہے کہ امن قائم رکھے مگر اس کے احسان کا بھی تو ہم انکار نہیں کر سکتے۔چونکہ اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہمیں یہ آرام و آسائش نصیب ہوا ہے۔اس لئے ہم اس کے ممنون احسان ہیں اور بہر حال ہیں۔قرب الہی کے حصول کا طریق: پس تم خوب یا درکھو کہ سیاست میں پڑنے اور اس کی طرف توجہ کرنے سے سلسلہ احمدیہ نہیں بڑھ سکتا اور ہم میں سے جو کوئی اوروں کے ساتھ مل کر سیاست میں پڑے گا وہ بھی کامیاب نہیں ہوگا۔کیونکہ جو خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جاتا ہے اس کو وہ بھی نہیں ملتی۔پس اگر تم خدا تعالیٰ کے قرب کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہو تو وہ دنیا طلبی میں تمہیں نہیں ملے گا بلکہ خدا طلبی میں ملے گا۔خدا نے