برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 169

برکاتِ خلافت — Page 63

برکات خلافت 63 ساتھ رہنے والے تھے پوچھتا ہوں تو وہ یہ اظہار نہیں دے سکتے کہ حضرت صاحب نے ان کو کبھی سیاست کی طرف مائل کیا ہو یا کبھی ان کی توجہ کو اس طرف پھیرا ہو۔مگر اس صورت میں ایک اعتراض پیدا ہوتا ہے اور یہ اعتراض صرف نو تعلیم یافتہ نو جوانوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ پرانے لوگوں کی طرف سے بھی پڑتا ہے کہ سیاست سے کیوں جماعت احمدیہ کو روکا جاتا ہے؟ ایک نادان اور کم عقل انسان کہہ سکتا ہے کہ چونکہ یہ لغو چیز ہے اس لئے اس سے روکا جاتا ہے مگر تاریخ کا مطالعہ کرنے والا اور گزشتہ قوموں کے حالات کا جاننے والا کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ دنیا کی حکومتوں اور سلطنتوں کا مدار ہی سیاست پر ہے۔پھر قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے سیاست کے کچھ قواعد بیان فرمائے ہیں۔یہ اچھی چیز تھی تب ہی تو قرآن کریم نے اس طرف توجہ فرمائی ورنہ کیوں فرماتا۔ادھر ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ سڑا ئیکوں سے نفع حاصل ہوتا ہے اور حقوق مل جاتے ہیں۔پھر یہ بھی کہ جائز کمیٹیشن کو گورنمنٹ بھی نا پسند نہیں کرتی تو پھر کیا وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کو سیاست سے روکا جاتا ہے اور حضرت مسیح موعود نے کیوں روکا ہے۔میرا عقیدہ فقط یہ نہیں ہے کہ سیاست سے کوئی فائدہ نہیں۔ہاں میرے عقیدہ اور دوسروں کے عقیدہ میں یہ فرق ہے کہ وہ اور فوائد سمجھتے ہیں اور میں اور۔چونکہ اس کی وجہ سے جماعت میں ابتلاء آنے کا ڈر ہے اس لئے میں اصل بات بتا نا چاہتا ہوں اس کا فیصلہ ہو جائے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو یہ فیصلہ ہمیشہ کے لئے ہو جائے۔قرآن شریف ہمیں فیصلہ کی ایک آسان راہ بتا تا ہے کہ اگر ہم کسی بات کا فیصلہ کرنے لگیں تو