برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 169

برکاتِ خلافت — Page 2

برکات خلافت 2 کم درجہ پر ہیں مگر ان کا پہنچانا بھی ضروری ہے وہ پہنچا دوں۔اس ضروری بات کو کل پر رکھنے سے میری یہ بھی غرض ہے کہ جو نعمت آسانی سے مل جاتی ہے اور جس کے لئے محنت نہیں کرنی پڑتی اس کی قدر نہیں ہوتی۔پس جولوگ کل تک یہاں اس بات کو سننے کے اشتیاق میں رہیں گے وہی اس کے سننے کے حقدار ہوں گے۔چونکہ مجھے کھانسی کی وجہ سے تکلیف ہے اس لئے اگر میری آواز سب تک نہ پہنچے تو بھی سب لوگ صبر سے بیٹھے رہیں۔اگر انہیں آواز نہ پہنچے گی تو ثواب تو ضرور ہی ہو جائے گا۔بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں۔کہ کان میں پڑیں بھی تو اثر نہیں ہوتا مگر اس مقام کا اثر ہو جاتا ہے جہاں کوئی بیٹھا ہوتا ہے۔باتیں تو اکثر لوگ سنتے ہیں مگر کیا سارے ہی پاک ہو جاتے ہیں؟ نہیں تو معلوم ہوا کہ نیک باتوں کے سننے والے کو ہدایت ہو جانا ضروری بات نہیں ہے۔پھر ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص کو کسی پاک مقام پر جانے کی وجہ سے بلا کسی دلیل کے ہدایت ہوگئی ہے۔تو اگر بعض لوگوں تک آواز نہ پہنچے اور وہ بیٹھے رہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص کی وجہ سے ہی بغیر باتیں سننے کے انہیں ہدایت دے دے گا۔اب میں اپنی اصل بات کی طرف آنے سے پیشتر چند ایسی باتیں بیان کرتا ہوں جن کا آج کل چرچا ہورہا ہے اور جو نہایت ضروری ہیں۔پہلی بات: میں کل یہاں آ رہا تھا۔چند لوگوں نے جو کہ دیہاتی زمیندار معلوم ہوتے تھے مجھے اس طرح سلام کیا کہ یا رسول اللہ السلام علیکم۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ رسول کیا ہوتا ہے۔میری یہ عادت نہیں ہے کہ کسی آدمی کو خصوصیت سے اس کی غلطی جتلاؤں۔اصل بات یہ ہے کہ مجھے شرم آجاتی ہے۔ایک تو اس لئے کہ اس کو