برکاتِ خلافت — Page 55
برکات خلافت 55 55 کو سراومور کرے کے نام سے۔اور جب ہم ان دونوں افسروں کے عہدہ کو دیکھتے ہیں تو جس سال حضرت مسیح موعود نے وفات پائی تھی اسی سال لارڈ کچھ ہندوستان سے رخصت ہوئے تھے اور سر اومور کرے کمانڈر مقرر ہوئے مگر یہ بات تو پچھلی تھی۔عجیب بات یہ ہے کہ جس سال اور جس مہینہ میں سراومور کرے ہندوستان سے روانہ ہوئے ہیں اسی سال اور اسی مہینہ یعنی مارچ ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفتہ المسیح فوت ہوئے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کام پر مقررفرمایا۔کیا کوئی سعید الفطرت انسان کہ سکتا ہے کہ یہ رڈ یا شیطانی ہوسکتی تھی یا کوئی انسان اس طرح دو تین سال قبل از وقوع ایک بات اپنے دل سے بنا کر بتا سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن تھا؟ کہ میں دو سال پہلے یہ سب واقعات اپنے دل سے گھڑ کر لوگوں کو سنا دیتا اور پھر وہ صیح بھی ہو جاتے۔یہ کون تھا جس نے مجھے یہ بتا دیا کہ حضرت مولوی صاحب مارچ میں فوت ہوں گے۔۱۹۱۴ء میں ہوں گے اور آپ کے بعد آپ کا جانشین میں ہوں گا۔کیا خدا تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی ایسا کر سکتا ہے؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔اس رویا میں یہ جو دکھایا گیا کہ چارج میں ایک نقص ہے اور میں اسکے لینے سے انکار کرتا ہوں تو وہ ان چند آدمیوں کی طرف اشارہ تھا کہ جنہوں نے اس وقت فساد کھڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس رویا کے ذریعہ سے حضرت مولوی صاحب پر سے یہ اعتراض دور کیا ہے جو بعض لوگ آپ پر کرتے ہیں کہ اگر حضرت مولوی صاحب اپنے زمانہ میں ان لوگوں کے اندرونہ سے لوگوں کو علی الاعلان آگاہ کر دیتے اور اشارات پر ہی بات نہ رکھتے یا جماعت سے خارج کر دیتے تو آج یہ فتنہ نہ ہوتا۔اور مولوی صاحب کی طرف