برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 169

برکاتِ خلافت — Page 34

برکات خلافت =4 34 خلافت ہوگی اس کا انکار ایک جماعت کرے گی اور فتنہ ڈالے گی۔پس اگر کوئی جماعت خلافت کی منکر نہ ہوتی تو یہ رویا کس طرح پوری ہوتی۔(۲) لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کا انکار کرنے والے بڑے آدمی ہیں۔ہم بھی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے لیکن حضرت مسیح موعود بڑے لوگوں کی نسبت ہی لکھتے ہیں کہ ”پس جو شخص در حقیقت اپنی جان اور مال اور آبرو کو اس راہ میں بیچتا نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا کے نزدیک بیعت میں داخل نہیں۔بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں۔اور ایک کمزور بچہ کی طرح ہر ایک ابتلاء کے وقت ٹھو کر کھاتے ہیں۔اور بعض بد قسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔پس میں کیونکر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے مگر اذن نہیں دیا جا تا کہ انکو مطلع کروں کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے۔پس مقام خوف ہے“ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۱۴) اگر یہ بات جو روز ازل سے مقدر ہو چکی تھی اور جس کی خبر حضرت مسیح موعود کو وقتاً فوقتا دی جاتی تھی اس وقت اس طرح پوری نہ ہوتی کہ جو بڑے تھے وہ چھوٹے نہ کئے جاتے اور وہ جماعت جس کو دبایا جاتا تھا اس کو بڑھایا نہ جاتا تو کس طرح اس کی صداقت ثابت ہوتی۔