برکاتِ خلافت — Page 32
برکات خلافت 32 32 اس کو روکنا کسی انسان کی طاقت اور قدرت میں نہیں ہے۔یہ جوفتنہ پڑا ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے قبل از وقت خبر دے دی تھی۔کمزور دل کے لوگ کہتے ہیں کہ اب کیا ہوگا احمد یہ سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ سے سلسلہ ٹوٹتا نہیں بلکہ بنتا ہے مبارک ہے وہ انسان جو اس نکتہ کو سمجھے۔اللہ تعالیٰ کے پیارے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ انہیں ایک زخم لگاتا ہے تو ان کی جماعت اور بڑھتی اور ترقی کرتی ہے۔کیا تم نے کبھی باغبان کو دیکھا نہیں جب وہ کسی درخت کی شاخیں کاتا ہے تو اور زیادہ شاخیں اس کی نکل آتی ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے جو اس سلسلہ احمدیہ کے درخت کی کچھ شاخیں کاٹی ہیں تو اس لئے نہیں کہ یہ درخت سوکھ جائے بلکہ اس لئے کہ اور زیادہ بڑھے۔سو یہ مت سمجھو کہ اس فتنہ کی وجہ سے لوگ سمجھیں گے کہ یہ سلسلہ جھوٹا ہے کیونکہ یہ تو اس کی صداقت کو ظاہر کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں۔اگر کوئی نبی بیمار ہو جائے اور اس کے مخالفین خوش ہوں کہ یہ اب فوت ہو جائے گا لیکن وہ انہیں اپنا الہام نکال کر دکھا دے کہ میرا بیمار ہونا تو میری صداقت کی دلیل ہے کیونکہ مجھے پہلے بتایا گیا تھا کہ تو بیمار ہو گا تو اس بیماری سے اس نبی کی صداقت پر کوئی دھبہ نہیں لگتا بلکہ اس کی صداقت اور ثابت ہوتی ہے۔اسی طرح جب اس فتنہ کے لئے پہلے خبر میں دی گئی تھیں تو یہ ہماری ترقی میں کوئی روک نہیں ہوسکتا بلکہ اور زیادہ ترقی کے لئے اس فتنہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہمیں دلائل و براہین کی تلوار میں دے دی ہیں تا کہ نہ ماننے والوں کو دلائل کے ساتھ قتل کرتے پھریں۔فتنہ کا ہونا ضروری تھا: (۱) دیکھو حضرت مسیح موعود نے کے دسمبر ۱۸۹۲ء کو اپنا ایک رؤیا