برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 169

برکاتِ خلافت — Page 16

برکات خلافت 16 دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے۔جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق کے وقت میں ہوا۔جبکہ آنحضرت ﷺ کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے۔اور صحابہ ” بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا۔اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا۔اور اس وعدہ کو پورا کیا۔جو فرمایا تھا وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّ لَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أمناً ( النور :۵۶) یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جمادیں گے۔ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا جبکہ حضرت موسی مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچادیں فوت ہو گئے۔اور بنی اسرائیل میں انکے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا۔جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بے وقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسٹی کی ناگہانی جدائی سے چالیس دن تک روتے رہے۔ایسا ہی حضرت عیسی کے ساتھ معاملہ ہوا۔اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہو گئے۔اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہو گیا۔“ ( الوصیت صفحہ ۶ ، ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۴، ۳۰۵) پس حضرت مسیح موعود نے گرتی ہوئی جماعت کو سنبھالنے کے لئے وہی طریق بتایا ہے۔جو آنحضرت ﷺ حضرت موسی اور حضرت عیسی کے بعد عمل میں آیا۔یعنی خلفاء ہوئے۔لیکن جہاں حضرت مسیح موعود نے تبلیغ کا حکم فرمایا ہے۔وہاں یہ لکھا ہے۔اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں۔میرے نام پر میرے بعد