برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 169

برکاتِ خلافت — Page 148

برکات خلافت 148 کے اصل معنی تو شراب کے نشہ کے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی کلام کے کئی بطن ہوتے ہیں۔پس ایک طرف تو اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ شراب پینے والا نماز کے قریب بھی نہ جائے اور دوسری طرف یہ بتایا ہے کہ عادت کے طور پر اور اصل غرض اور غایت سے ناواقف رہ کر نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔کیونکہ جس طرح ایک شرابی کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ایک غلیظ اور گندی نالی میں گرا ہوا ہے یا بڑے مکلف فرش پر بیٹھا ہوا ہے اسی طرح نماز کو عادت کے طور پر پڑھنے والا نہیں سمجھتا کہ وہ ایک عظیم الشان دربار میں کھڑا ہے یا کسی جنگل میں ہے۔اسی لئے اس طرح نماز پڑھنے سے خدا تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔اب میں بتاتا ہوں کہ قرآن شریف نے کس طرح روحانیت کے سات مدارج بتائے ہیں۔ان مدارج میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح انسان ان کو چھوڑ کر تنزل کے گڑھے میں گرتا ہے۔اور کس طرح ان کو طے کرنے کی وجہ سے اوپر ترقی کرتا جاتا ہے اور جتنی جتنی اسے سمجھ آتی جاتی ہے اتنے ہی زیادہ اسے نیک نتائج اور اپنے اعمال کا بدلہ ملتا جاتا ہے۔روحانیت کا پہلا درجہ : انسان کا پہلا درجہ جمادات سے مشابہ ہوتا ہے اور یہ بدترین درجہ ہے۔ایسے لوگوں کو بھلی بری بات کے پہچاننے کی حس ہی نہیں ہوتی۔ان کے سامنے کوئی لا کھ شور مچائے ان کو کچھ بھی احساس نہیں ہوتا کیونکہ ان میں ترقی کرنے کا مادہ ہی نہیں ہوتا۔ایسے لوگوں کو خواب اور الہام بھی نہیں ہوتا۔ان کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَة وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ