برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 169

برکاتِ خلافت — Page 124

برکات خلافت 124 ان کو تم اشتیاق سے سنو تم وعظ میں یہ نہ دیکھو کہ بنسی ہے یار ونا بلکہ یہ دیکھو کہ کہنے والا کہتا کیا ہے اور اگر کوئی بات تمہیں کڑوی لگے تو اس پر غور کرو اور اگر میٹھی لگے تو اس پر عمل کر کے دکھاؤ اور لطیفہ سننے کے لئے کسی لیکچر میں نہ بیٹھولیکچروں میں حاضر ہونے والوں میں ایک اور بھی نقص ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ہر ایک سننے والا یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں پاک اور مطہر ہوں یہ جو وعظ ہو رہا ہے یہ میرے ارد گرد بیٹھنے والوں کے لئے ہے حالانکہ اس خیال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سارے ہی خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں اور وعظ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا۔پس آپ لوگوں میں سے ہر ایک شخص یہ سمجھ لے کہ میرے وعظ کا مخاطب سب سے پہلے وہی ہے اور یہ خیال کر لے جو کچھ کہا گیا ہے مجھے ہی کہا گیا ہے پس اگر کوئی ولی بیٹھا ہوتو وہ بھی میر امخاطب ہے اور اگر کوئی گندے سے گندہ انسان بیٹھا ہے تو وہ بھی۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم نہیں بلکہ دوسرے مخاطب ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں۔کسی بادشاہ کی نسبت لکھا ہے کہ اس نے اپنے درباریوں کی اطاعت اور فرمانبرداری آزمانے کے لئے حکم دیا کہ کل رات تم سب فلاں تالاب میں ایک ایک لوٹا پانی کا ڈالنا۔وہ جب اپنے اپنے گھر گئے تو ہر ایک نے یہ خیال کر لیا ہم کہاں پانی کا لوٹا اٹھائے ہوئے جائیں۔وہ وزراء وامراء جن کو رومال اٹھانا دوبھر تھا بھلا وہ پانی کا لوٹا کس طرح اٹھا سکتے تھے ان میں سے ہر ایک نے یہ سمجھ لیا کہ میرے لوٹا ڈالنے سے تالاب تو بھر نہیں جائے گا اور ہزاروں آدمی لوٹے ڈالیں گے بادشاہ کو میرے لوٹے کا کیا پتہ لگے گا کہ اس نے ڈالا ہے یا نہیں چنانچہ ہر ایک ان میں سے یہی خیال کر کے گھر بیٹھ رہا اور کسی نے لوٹا نہ ڈالا تالاب بالکل خشک رہا بادشاہ نے جب تالاب کو دیکھا