برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 169

برکاتِ خلافت — Page 108

برکات خلافت 108 ہے چونکہ گورنمنٹ رعایا کے آرام کے لئے ہی ٹیکس لیتی ہے اس لئے اس کے اس ٹیکس لینے کو کوئی چٹی خیال نہیں کرتا اسی طرح زکوۃ بھی چٹی نہیں بلکہ خود انسانوں کے بھلے کے لئے یہ حکم دیا گیا ہے جس طرح گورنمنٹ اپنی رعایا کی بہتری کے لئے ٹیکس وصول کرتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی زکوۃ مقرر فرمائی ہے اور اس کے بدلہ میں یہ وعدہ کیا ہے کہ تمہارے اموال میں برکت ہوگی اور وہ ہر ایک قسم کی ہلاکتوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔جیسا کہ فرمایا ” خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ تُطَهِّرُ هُمْ وَ تُزَكِّيْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ “ (التوبہ: ۱۰۳) ان لوگوں کے اموال میں سے صدقات کا مال لو اور اس ذریعہ سے ان کو ظاہری اور باطنی نقصوں سے پاک کر دو اور ان کے لئے دعائیں کرو کیونکہ تمہاری دعائیں ان کے لئے آرام اور راحت کا موجب ہیں۔غرض کہ زکوۃ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا ٹیکس ہے جس کے بدلہ میں انسان پر رحمت اور اس کی ظاہری و باطنی پاکیزگی کا وعدہ ہے۔جب سے مسلمانوں نے زکوۃ دینی چھوڑ دی ہے اس وقت سے ان کا مال کم ہی کم ہو رہا ہے۔کہاں تو ایک وقت تھا کہ یہ دنیا کے بادشاہ تھے لیکن آج ذلیل وخوار ہو رہے ہیں۔زکوۃ دینے والے کو اللہ تعالیٰ اسی طرح کامیابی اور پاکیزگی کا وعدہ دیتا ہے جس طرح گورنمنٹ ٹیکس لے کر حفاظت کا وعدہ کرتی ہے۔لیکن افسوس کہ لوگ گورنمنٹ کے وعدہ کو تو سچا سمجھتے ہیں اور بڑی خوشی سے ٹیکس ادا کر دیتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کے وعدہ کو سچا نہیں سمجھتے اسی لئے زکوۃ نہیں دیتے۔زکوۃ کے ذریعہ سے انسان بہت سے دکھوں اور تکلیفوں سے بچ جاتا ہے کیونکہ خدا کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔