برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 169

برکاتِ خلافت — Page 53

برکات خلافت 53 53 اور میں بھی اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسٹنٹ سرجن بھی ہمارے ساتھ تھے۔گاڑی آپ کی کوٹھی کی طرف روانہ ہوئی اور جس وقت اس سڑک پر چڑھ گئی جو مدرسہ تعلیم الاسلام کی گراؤنڈ میں تیار کی گئی ہے تو آپ کا ایک ملازم دوڑتا ہوا آیا کہ حضور فوت ہو گئے اس وقت میں بے اختیار ہو کر آگے بڑھا اور گاڑی والے کو کہا کہ گاڑی دوڑاؤ اور جلد پہنچاؤ۔اسی وقت نواب صاحب کو وہ رؤیا یاد آگئی اور آپ نے کہا کہ وہ رو یا پوری ہوگئی۔یہ رویا ہستی باری کا ایک ایسا زبردست ثبوت ہے کہ سوائے کسی ایسے انسان کے جو شقاوت کی وجہ سے صداقت نہ ماننے سے بالکل انکار کر دے۔ایک حق پسند کے لئے نهایت رشد اور ہدایت کا موجب ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے فیصلہ سے بچنے کی لاکھ کوشش کرے تقدیر پوری ہو کر ہی رہتی ہے میں نے جس خوف سے لا ہور کا سفر ملتوی کرنے کا ارادہ کیا تھا وہ امر قادیان میں ہی پورا ہوا۔حضرت کی وفات اور میری خلافت کے متعلق آٹھویں آسمانی شہادت: قریباً تین چار سال کا عرصہ ہوا جو میں نے دیکھا کہ میں اور حافظ روشن علی صاحب ایک جگہ بیٹھے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے گورنمنٹ برطانیہ نے افواج کا کمانڈر ان چیف مقرر فرمایا ہے اور میں سر او مور کرے سابق کمانڈر ان چیف افواج ہند کے بعد مقرر ہوا ہوں اور ان کی طرف سے حافظ صاحب مجھے عہدہ کا چارج دے رہے ہیں۔چارج لیتے لیتے ایک امر پر میں نے کہا کہ فلاں چیز میں تو نقص ہے میں چارج میں کیونکر لے لوں؟ میں نے یہ بات کہی ہی تھی کہ نیچے کی چھت پھٹی ( ہم چھت پر تھے ) اور حضرت