برکاتِ خلافت — Page 35
برکات خلافت 35 55 (۳) پھر اگر جماعت احمدیہ کے دو گروہ نہ ہوتے تو حضرت مسیح موعود کا یہ الہام کس طرح پورا ہوتا کہ ” خدا دو مسلمان فریق میں سے ایک کا ہوگا۔پس یہ پھوٹ کا ثمرہ ہے۔‘ ( ۱۷ اپریل ۱۹۰۷ء تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۷۱۵ ) یعنی جماعت کے دو گروہ ہو جائیں گے۔اور ان میں سے خدا ایک کے ہی ساتھ ہوگا۔اگر کوئی کہے کہ اس سے مراد احمدی اور غیر احمدی ہیں اور اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اس اختلاف میں احمدیوں کے ساتھ ہوگا تو ہم کہتے ہیں کہ اگر اس سے احمدی اور غیر احمدی مراد ہیں تو الہام اس طرح ہونا چاہیئے تھا کہ اللہ ایک کا ہے نہ کہ ایک کا ہوگا کیونکہ حضرت صاحب کا الہام ہے ” إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِكَ وَ مَعَ كُلِّ مَنْ اَحَبَّكَ“۔( ترجمہ ) میں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔اور ان تمام کے ساتھ جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں یا رکھیں گے۔( ۹ جون ۱۹۰۵ء تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۴ ۵۵) یعنی اللہ تعالیٰ اس وقت احمدیوں کے ساتھ ہے۔مگر اس الہام کا لفظ ” ہوگا ثابت کرتا ہے کہ اللہ کسی آئندہ زمانہ میں ایک کا ہوگا۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس الہام میں احمدی جماعت کے دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے۔پس اگر موجودہ فتنہ نہ ہوتا تو یہ الہام کس طرح پورا ہوتا ؟ (۴) پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود کے صحبت یافتہ اور آپ کے بڑے پیارے دوستوں میں سے ہیں ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے۔ایک وقت آپ ایسے ہی تھے۔لیکن کیا آپ کو حضرت مسیح موعود کا وہ الہام یاد نہیں ہے جو کہ شیخ رحمت اللہ صاحب کے دعا کے عرض کرنے پر صبح کو حضرت مسیح موعود نے سنایا تھا کہ میں نے آپ کے لئے دعا