برکاتِ خلافت — Page 33
برکات خلافت 33 بیان فرمایا کہ " کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ بن گیا ہوں۔یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں۔اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کر لیتا ہے سو اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضیٰ ہوں اور ایسی صورت واقعہ ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے۔یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس ہیں اور شفقت اور تو ڈر سے مجھے فرماتے ہیں کہ " يَا عَلِيٌّ دَعْهُمْ وَ أَنْصَارَهُمْ وَزِرَاعَتَهُمْ یعنی اے علی ان سے اور ان کے مددگاروں اور انکی کھیتی سے کنارہ کر۔اور انکو چھوڑ دے اوران سے منہ پھیر لے اور میں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت سے مجھے کوفر ماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ تو ہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے۔“ ( تذکرہ صفحہ ۲۰۹) الله اس رویا میں حضرت مسیح موعود کو بتایا گیا کہ لوگ تمہاری خلافت کا انکار کریں گے اور فتنہ ڈالیں گے لیکن صبر کرنا ہوگا۔آپ نے اس رویا کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ لوگ میرا انکار کریں گے۔لیکن خدا تعالیٰ کی باتوں کے کئی معنے ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے الہام شَاتَانِ تُذْبَحَانِ کے پہلے اور معنے گئے تھے اور پھر اسے سید عبد اللطیف صاحب شہید اور مولوی عبد الرحمن صاحب پر چسپاں فرمایا اور دونوں ہی معنی درست تھے۔تو اس رؤیا کے ایک معنے تو یہ بھی ہیں کہ لوگ حضرت مسیح موعود کا انکار کریں گے۔لیکن اس کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے بعد جو