برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 169

برکاتِ خلافت — Page 25

برکات خلافت 25 25 انہوں نے بعد میں معاویہ سے صلح کر لی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے بعد امام حسین اور ان کا سب خاندان شہید ہو گیا۔ایک دفعہ انہوں نے خدا کی نعمت کو چھوڑا۔خدا تعالیٰ نے کہا اچھا اگر تم اس نعمت کو قبول نہیں کرتے تو پھر تم میں سے کسی کو یہ نہ دی جائے گی۔چنانچہ پھر کوئی سید کبھی بادشاہ نہیں ہوا سوائے چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے سیدوں کو حقیقی بادشاہت اور خلافت کبھی نہیں ملی۔امام حسن نے خدا کی دی ہوئی نعمت واپس کر دی۔جس کا نتیجہ بہت تلخ نکلا۔تو خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کو ر ڈ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اس شخص کو خدا کی معرفت سے کوئی حصہ نہیں ملا۔اور وہ خدا کی حکمتوں کے سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا جو مجھے کہتا ہے کہ آپ خلافت کو چھوڑ دیں۔اس نادان کو کیا معلوم ہے کہ اس کے چھوڑنے کا کیا نتیجہ ہوگا۔پس حضرت عثمان کی طرح میں نے بھی کہا کہ جو قبا مجھے خدا تعالیٰ نے پہنائی ہے وہ میں کبھی نہیں اتاروں گا خواہ ساری دنیا اس کے چھینے کے درپے ہو جائے۔پس میں اب آگے ہی آگے بڑھوں گا خواہ کوئی میرے ساتھ آئے یا نہ آئے۔مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ابتلاء آئیں گے مگر انجام اچھا ہو گا۔پس کوئی میرا مقابلہ کر کے دیکھ لے خواہ وہ کوئی ہو انشاء اللہ میں کامیاب رہوں گا اور مجھے کسی کے مقابلہ کی خدا کے فضل سے کچھ بھی پرواہ نہیں ہے۔بعض باتیں ایسی ہیں جو کہ میں خود ہی سناسکتا ہوں کسی کو کیا معلوم ہے کہ مجھ پر کتنا بڑا بوجھ رکھا گیا ہے بعض دن تو مجھ پر ایسے آتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ شام تک میں زندہ نہیں رہوں گا۔اس وقت میں یہی خیال کرتا ہوں کہ جتنی دیر زندہ ہوں اتنی دیر کام کئے