برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 169

برکاتِ خلافت — Page 106

برکات خلافت 106 ہے۔حضرت ابوبکر نے کہا کہ اگر لوگ بکری کا بچہ یا اونٹ کے گھٹنہ باندھنے کی رشتی کے برابر بھی زکوۃ کے مال میں سے ادا نہ کریں گے جو آنحضرت ﷺ کو ادا کرتے تھے تو میں ان سے جنگ کروں گا اور اگر تم لوگ مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور جنگل کے درندے بھی مرتدین کے ساتھ مل کر حملہ کریں گے تو میں ان سے اکیلا لڑوں گا۔غرض زکوۃ کے حکم کو حضرت ابو بکر نے اس قدر اہمیت دی ہے کہ اس کے منکر سے کفار کا سا سلوک جائز رکھا ہے۔مگر آج مسلمانوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اس کی طرف توجہ کرتے ہیں۔میں نے اندازہ کیا ہے کہ اگر ساری جماعت احمدیہ کی صرف زکوۃ ہی جمع کی جائے تو ایک لاکھ روپیہ کے قریب ہوتی ہے۔کیونکہ کچھ نہ کچھ تو لوگوں کے پاس زیور ہوتا ہی ہے۔ہاں وہ اشیاء جن پر گورنمنٹ ٹیکس وصول کرتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی نسبت فتویٰ دیا ہے کہ چونکہ گورنمنٹ ان پر ٹیکس وصول کر لیتی ہے اس لئے اب ان پر کوئی زکوۃ یا عشر نہیں لیکن میرے خیال میں بعض زمینوں پر گورنمنٹ جو مالیہ وصول کرتی ہے وہ شرعی عشر سے کم ہوتا ہے۔اس لئے جہاں گورنمنٹ کا مالیہ یا ٹیکس کم ہو وہاں بقیہ روپیہ اس شخص کو جس کے ذمہ وہ واجب ہوا دا کرنا چاہئے۔مثلاً ایک زمین پر گورنمنٹ مالیہ لیتی ہو اور اس کا عشر دس روپیہ ہوتا ہو تو پانچ روپیہ اس کے مالک کو عشر کے طور پر یہاں ادا کرنے چاہئیں۔اس انتظام کے لئے ہر ایک گاؤں اور شہر کی احمدیہ انجمنوں کے سیکرٹریوں کو اور جہاں سیکرٹری نہیں وہاں کسی اور کو ہی رجسٹر بنا لینے چاہئیں۔جس میں زیور اور دیگر زکوۃ والی چیزوں کو درج کیا جائے اور با قاعدہ زکوۃ وصول کی جائے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ پہننے والے زیوروں کے