برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 169

برکاتِ خلافت — Page 94

برکات خلافت 94 ایک شریف اور وضیع کا گزارہ ہونا مشکل ہوتا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص اپنی عورت کو چھوڑ کر کچی کے پاس جایا کرتا تھا۔اس عورت نے ایک دن ایک کچی کو بلا کر پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ اپنے گھر کی عورتوں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آتے ہیں۔اس نے کہا ہم ناز و نخرے کرتی ہیں۔پاس بیٹھتا ہے تو لاتیں مارتی ہیں اور طرح طرح کے مخول اور مذاق ہوتے ہیں اس طرح خبیث مردوں کو مزہ آتا ہے اور وہ اور زیادہ ہماری طرف میلان ظاہر کرتے ہیں۔جب اسے یہ معلوم ہو گیا تو ایک دن جب اس کا خاوند گھر آیا اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی بیوی نے گالیاں دینی شروع کیں اور جب وہ ذرا قریب آیا تو ہاتھ سے بھی اس کی خبر لی۔وہ اول تو حیران سا رہ گیا کہ یہ آج کیا معاملہ ہے میری بیوی تو نہایت مطیع و فرمانبردار تھی آگے بات نہ کر سکتی تھی یہ تغیر کیا ہو گیا مگر پھر سمجھ گیا اور کہنے لگا کہ اب میں سمجھ گیا اس کی بیوی نے اسے بہت ملامت کی کہ تم اس گند کو پسند کرتے ہو اور فرمانبردار بیوی کی طرف راغب نہیں ہوتے۔غرض کہ یہ پختہ بات ہے کہ خبیث آدمی کو خبیث عورت پسند آتی ہے اور خبیث عورت خبیث مرد کو پسند کرتی ہے۔اسی طرح طیب عورت اور مرد طیب کو ہی پسند کرتے ہیں اور اسی کے مطابق ان کا تعلق ہوتا ہے تب جا کر انکا گزارہ ہوسکتا ہے۔کیونکہ کوئی دو چیزوں کا آپس میں اس وقت تک تعلق قائم نہیں رہ سکتا جب تک کہ ان کی آپس میں کچھ نسبت نہ ہو۔حضرت محی الدین صاحب ابن عربی بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ایک جگہ کو ا اور کبوتر ا کٹھے بیٹھے دیکھے مجھے تعجب ہوا کہ ان کی آپس میں کیا نسبت ہے کہ اکٹھے بیٹھے ہیں۔میں اس بات کو معلوم کرنے کے لئے وہیں بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر کے