برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 169

برکاتِ خلافت — Page 81

برکات خلافت 81 میں نے ٹوپی پہنی تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔ہیں !تم نے عید کے دن بھی ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔میں نے اسی وقت جا کر ٹوپی اتار دی اور پگڑی باندھ لی (اس کے کچھ عرصہ بعد میں نے بالکل ٹوپی کا استعمال ترک کر دیا ) ایڈیٹر صاحب نے کہا کہ نہیں ہمیں لڑکی کی مخالف سلطنتوں کی چیزوں کا ضرور بائیکاٹ کر دینا چاہئے۔میں نے کہا ہم ایک کے بائیکاٹ سے فارغ ہو لیں گے تو پھر اور کسی کا بھی بائیکاٹ کر لیں گے۔اس نے کہا کہ آپ کس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔میں نے کہا شیطان کا۔سارے ملکوں پر شیطان کی حکومت ہے اور یہ ہمارے حقوق دن بدن دبائے جا رہا ہے اور روز بروز ہمیں کمزور کر رہا ہے۔کیا تمہیں اس کے بائیکاٹ کا فکر نہیں۔ہم تو جب اس کا بائیکاٹ کر لیں گے تو پھر اوروں کا دیکھا جائے گا۔آج کل اسلام پر سخت مصیبت کے دن آئے ہوئے ہیں۔اور شیطان اس کو کمزور کر رہا ہے۔مگر تمہیں اس کا تو کوئی فکر نہیں۔لیکن آسٹریا کے مال کا بائیکاٹ کرنے میں لگے ہوئے ہو۔یہ سن کر وہ شرمندہ سا ہو کر چپ ہو گیا۔واقعہ میں جو دنیا چاہتا ہے وہ سیاست میں دخل دے اور سلطنتوں کے مالوں کا بائیکاٹ کرتا پھرے۔لیکن جو اسلام سے محبت رکھتا ہے اسے شیطان سے بڑھ کر اور کس کے بائیکاٹ کا فکر ہوگا۔پس اگر ہمارے بیوی ، بچے ، دوست، آشنا مال و دولت ، آرام و آسائش بلکہ سب کچھ بھی قربان ہو کر اسلام کو ترقی نصیب ہو تو یہ ہماری عین مراد اور دل کی خوشی ہے یہ جماعت احمد یہ اسلام کی ضرورت کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔پھر اگر ہم پہ تھوڑے سے آدمی بھی سیاست میں لگ جائیں تو اور کون ہوگا جو اسلام کی خدمت کرے گا۔ان لوگوں کو جانے دو جو سیاست میں پڑتے