برکاتِ خلافت — Page 80
برکات خلافت 80 تعالیٰ کی خدمت کے نصیب ہوتے ہوئے اور کیا چاہتے ہو اسی میں لگے رہو اور دنیا کی ایجی ٹیشن دنیا کے کیڑوں کے حوالے کر دو اور تم شیطان کے مقابلہ پر اسکیٹیشن کرو۔ایک ایڈیٹر سے آپ کا مکالمہ : ایک شادی کے موقع پر ایک دفعہ مجھے لاہور جانا پڑا جو لوگ شادی میں شامل ہونے کے لئے آئے تھے ان میں لاہور کے ایک مشہور اخبار کے ایڈیٹر بھی تھے۔ان دنوں ٹرکی اور آسٹریا کا آپس میں جھگڑا تھا اس لئے آسٹریا کے مال کو بائیکاٹ کرنے کے لئے اخباروں میں لکھا جارہا تھا۔میں نے اس سے کچھ مدت پہلے ان ایڈیٹر صاحب کے خلاف ایک سخت مضمون لکھا تھا جو ان کے کسی بیہودہ مضمون کے جواب میں تھا جب ایڈیٹر صاحب کی اور میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی کیا عمر ہے۔میں نے کہا انہیں ۹ سال ہے۔یہ سن کر وہ بڑے متعجب ہوئے اور کہا کہ آپ کی اتنی ہی عمر ہے۔غالباً انہیں وہ مضمون یاد آ گیا پھر کہا کہ ٹرکی کے دو صوبے آسٹریا نے دبالئے ہیں اس لئے آپ کے خیال میں آسٹریا سے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔میں نے کہا ہمارے سپر د تو بہت بڑا کام ہے اس لئے ہم اور کسی طرف کس طرح توجہ کر سکتے ہیں؟ کہنے لگے ہمیں آسٹریا کے مال کا بائیکاٹ کرنا چاہئے اور اس کی کوئی چیز نہ خریدنی چاہئے۔میں اس وقت ٹوپی پہنے ہوئے تھا جو کہ اتفاقاً اٹلی کی بنی ہوئی تھی۔وہ ایڈیٹر صاحب کہنے لگے کہ آسٹریا کی بنی ہوئی ٹوپیاں ہمیں نہیں پہنی چاہئیں میں نے کہا کہ میں تو اس خیال میں آپ سے متفق نہیں لیکن میری یہ ٹوپی تو ائلی کی بنی ہوئی ہے۔جس وقت کا یہ ذکر ہے اس وقت میں ٹوپی پہنا کرتا تھا لیکن حضرت مسیح موعود ٹوپی کو پسند نہیں فرمایا کرتے تھے مجھے خوب یاد ہے کہ ایک دفعہ عید کے دن