برکاتِ خلافت — Page 72
برکات خلافت 72 گے تو گورنمنٹ انہی کے مطالبات پورے کرے گی جو زیادہ ہوں گے۔لیکن تم اپنے حال پر غور کرو دوسروں کے مقابلہ میں تمہارا جتھا ہی کیا ہے کہ تم کچھ منواسکو؟ ہماری اپنی حالت تو یہ ہے کہ کوئی دشمن ہمیں تنگ کرتا ہے تکلیفیں دیتا ہے، دکھ پہنچاتا ہے تو ہم کو کہ گورنمنٹ کے سپاہی ہی اس سے بچاتے ہیں۔تو سیاست کی وجہ سے ہمیشہ وہی قوم کامیاب ہوتی ہے جس کا جتھا ہوتا ہے۔اگر ایک سکول کے لڑکے سٹرائک کریں اور سٹرائک کرنے والوں کی تعداد سٹرائک نہ کرنے والوں سے کم ہو تو سٹرائک کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ ایسی صورت میں افسر سٹرائک کرنے والے طلباء کو خارج کر دیں گے۔لیکن اگر استقلال سے اکثر حصہ یا سب کے سب طلباء سٹرائک کریں گے تب ان کو کامیابی کی امید ہو سکے گی ورنہ سخت نا کام ہوں گے۔لیکن تم بتاؤ کہ تمہارے ساتھ کون سا جتھا اور کون سی جماعت ہے۔سیاست میں پڑ کر چھوٹی قوم بڑی میں جذب ہو جاتی ہے، نیا ایک تجربہ شدہ بات ہے کہ جو چھوٹی جماعتیں سیاست کی طرف اپنا رخ کرتی ہیں انہیں اپنا جتھا بنانے کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں بغیر جتھے کے کوئی قوم سیاسی امور میں کامیاب نہیں ہو سکتی اس لئے وہ دوسروں سے ملنا جلنا شروع کر دیتی ہیں۔چونکہ وہ خود چھوٹی ہوتی ہیں اس لئے بجائے اس کے کہ اوروں کو اپنے ساتھ ملائیں خودان میں جذب ہو کر اپنی ہستی فنا کر لیتی ہیں۔دیکھو آج جو ہماری جماعت کو نقصان پہنچا ہے وہ بھی اسی سیاست کی وجہ سے پہنچا ہے پہلے پہل تو ہماری جماعت کے چندلوگ سیاست کی طرف متوجہ ہوئے لیکن چونکہ سیاست ہمیشہ جتھا چاہتی ہے اسلئے ان کو دوسری