برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 169

برکاتِ خلافت — Page 71

برکات خلافت 71 احتیاج ہے۔اور جبکہ اس کی فوج آگے ہی قلیل ہے تو وہ اس قلیل فوج میں سے کچھ فوج کو اور کام میں کیونکر لگا سکتا ہے۔نادان ہے وہ انسان جو اس وقت سیاست کی کشمکش کو دیکھ کر اور پھر اسلام کی حالت کو معلوم کر کے سیاست کی طرف متوجہ ہوتا ہے کیونکہ اسے دین کے متعلق خدمت کرنے کی کب فرصت ملے گی۔چونکہ سیاست میں پڑ کر انسان کو بہت جلد دنیا میں عزت و شہرت حاصل ہونے لگتی ہے اس لئے لوگ اس نزدیک کے فائدہ کی خاطر دین کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔اور اس زمانہ میں تو دنیا کی کشش یوں بھی زیادہ ہے پس سیاست جس قدر بھی انسان کو اپنی طرف کھینچے تھوڑا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود نے یہ پسند نہ کیا کہ جو تھوڑے سے آدمی ان کے ساتھ شامل ہیں ان کو بھی آپ سیاست میں دخل دینے کی اجازت دے کر اپنے ہاتھ سے کھو دیں۔اگر کوئی یہ کہے کہ ہمیں سیاست کے چھوڑنے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے، ہم تحصیلدار، ڈپٹی اور دیگر سرکاری عہدے حاصل نہیں کر سکے تو وہ سمجھ لے کہ اس کے چھوڑنے سے خدا ملتا ہے اور نہ چھوڑنے سے دنیا۔پس اگر تمہیں خدا پیارا ہے تو سیاست کو چھوڑ دو۔اور اگر نزدیک کی خوشی پسند کرتے ہو یعنی دنیا کی، تو پھر جو تمہاری مرضی ہے وہ کرو۔اس صورت میں ہمارا تم پر کوئی ایسا اختیار نہیں ہے کہ مجبورا تمہیں روک دیں۔سیاسی معاملات میں پڑنے کا دوسرا خطرناک نتیجہ: سیاست میں جتھے کی ضرورت ہوتی ہے اگر کچھ آدمی کھڑے ہو کر گورنمنٹ سے کسی بات کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ ان کا مطالبہ پورا کرتی ہے۔لیکن ہر ایک بات کے پورا کرنے میں وہ اس بات کا لحاظ رکھتی ہے کہ لوگوں کی کثرت کس طرف ہے۔اگر آج لوگ گورنمنٹ سے کوئی مطالبہ کریں