برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 169

برکاتِ خلافت — Page 3

برکات خلافت 3 اپنی غلطی پر شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔دوسرے خود مجھے دوسرے کو ملامت کرنے پر شرم محسوس ہوتی ہے اس لئے میں کسی کی غلطی کو عام طور پر بیان کر دیا کرتا ہوں اور کسی خاص آدمی کی طرف اشارہ نہیں کرتا سوائے ان خاص آدمیوں کے جن سے خاص تعلق ہوتا ہے۔ایسے آدمیوں کو میں علیحدگی میں بتادیتا ہوں۔سو یہ بات اچھی طرح یا درکھو کہ رسول رسول ہی ہوتا ہے ہر ایک شخص رسول نہیں ہو سکتا۔ہاں ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ فخر بخشا ہے کہ ایک رسول کی خدمت کا شرف عطا کیا ہے۔تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کا جو درجہ ہوتا ہے وہ رسولوں کو دو اور دوسرے کسی کو ان کے درجہ میں شامل نہ کرو۔اللہ کے رسولوں کے نام قرآن شریف میں درج ہیں اور جو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اپنا رسول بھیجا ہے اس کا نام بھی آپ لوگ جانتے ہیں باقی سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ہاں خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کی ترقی کے لئے خلافت کا سلسلہ جاری کیا ہے اور جو انسان اس کام کے لئے چنا گیا ہے وہ درحقیقت تمہارا بھائی ہی ہے پس اس کو رسول کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں ہے۔دوسری بات : بعض لوگ گھٹنوں یا پاؤں کو ہاتھ لگاتے ہیں گو وہ یہ کام شرک کی نیت سے نہیں بلکہ محبت اور عقیدت کے جوش میں کرتے ہیں لیکن ایسے کاموں کا انجام ضرور شرک ہوتا ہے۔اس وقت ایسا کرنے والوں کی نیت شرک کرنے کی نہیں ہوتی مگر نتیجہ شرک ہی ہوتا ہے۔بخاری شریف میں آیا ہے۔ابن عباس کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں حضرت نوح کی قوم کے جن بتوں کے نام آئے ہیں وہ دراصل مشرک اقوام کے بڑے بڑے آدمی تھے۔ان کے مرنے پر پچھلوں نے ان کی یادگاریں قائم کرنی چاہیں