برکاتِ خلافت — Page 64
برکات خلافت 64 ہمیں اس کے فوائد اور اس کے نقصانات پر غور کرنا چاہئے۔جوئے اور شراب کی نسبت اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْحَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيْهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا۔(البقرہ:۲۲۰) شراب کے متعلق لوگ تم سے سوال کرتے ہیں اور تم سے پوچھتے ہیں کہ یہ جائز ہے یا حرام۔اور جوئے کے متعلق بھی پوچھتے ہیں۔فرمایا ان کو اس کا یہ جواب دے دو ( اسلام کیا ہی پاک مذہب ہے کہ کسی کی نیکی اور اچھی صفت کو ضائع نہیں کرتا۔کیا ہی عمدہ اور پاک جواب دیا) کہ ان میں کچھ بدیاں ہیں اور کچھ فوائد بھی۔لیکن بدیاں فوائد کی نسبت زیادہ ہیں۔یہ کیا ہی لطیف جواب دیا ہے۔ان کے سوال پر انہیں منع نہیں کیا گیا کہ تم شراب نہ پیو۔اور جو نہ کھیلو۔بلکہ یہ فرما دیا ہے کہ ان میں منافع تھوڑے ہیں اور نقصان زیادہ۔اب تم آپ ہی سمجھ لو کہ تمہیں کیا کرنا چاہیئے۔تو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ قاعدہ کلیہ بیان فرما دیا کہ ہر ایک چیز میں دو باتیں ہوتی ہیں۔یعنی نفع اور نقصان۔پس اگر کسی چیز میں نفع زیادہ ہو اور نقصان تھوڑا۔تو اس کو کر لیا کرو۔اور اگر کسی چیز میں نقصان زیادہ ہو اور نفع تھوڑا تو اس کو اختیار نہ کیا کرو۔دنیا کا تمام کارخانہ اسی قاعدہ پر چل رہا ہے۔ہر ایک انسان جس چیز میں نفع زیادہ دیکھتا ہے اس کو اختیار کر لیتا ہے اور جس میں نقصان زیادہ دیکھتا ہے اس کو چھوڑ دیتا ہے۔اسی قاعدہ کے مطابق تم سیاست کو دیکھو۔سیاست بالذات کوئی بری چیز نہیں ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ ایک ہی چیز ایک وقت میں حلال ہوتی ہے تو وہی دوسرے وقت میں حرام ہو جاتی ہے۔مثلاً نماز ایک ایسی چیز ہے جس سے کہ قرب الہی حاصل ہوتا ہے مگر ایک وقت یہی نماز پڑھنے والا