برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 169

برکاتِ خلافت — Page 28

برکات خلافت 28 آپ کے صحابہ میں شامل نہیں تھا مگر اس کو صحابہ میں اس لئے شامل نہیں کیا جا تا کہ وہ منافق تھا۔اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود کے ساتھ رہنے والوں میں سے کوئی ٹھوکر کھائے۔تو یہ اس کا اپنا قصور ہے نہ کہ اس کا حضرت مسیح موعود کی صحبت میں رہنا اس ٹھوکر کے نقصان سے اسے بچا سکتا ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ یہ ہمارا قیاس ہی قیاس نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ساری جماعت کو ٹھو کر نہیں لگی۔بلکہ حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا تھا: سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را مسیح موعود اللہ تعالیٰ کو اپنا سرمایہ پیش کرتے ہیں۔کیوں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرے۔اور یہ خدا تعالیٰ نے خود فر مایا کہ تم اپنی جماعت کو میرے سپرد کر دو۔ہم اس کی حفاظت کریں گے۔اب اگر منکرین خلافت کی بات مان لی جائے تو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی جماعت کی اچھی حفاظت کی کہ اس کا پہلا اجماع ضلالت پر کروایا۔مسیح موعود نے جماعت کو خدا کے سپرد کیا تھا۔خدا نے اس جماعت کو نور الدین کے سپرد کر دیا۔جس کی نسبت (نعوذ باللہ ) کہا جاتا ہے کہ گمراہی تھی کیا خدا تعالیٰ کو یہ طاقت نہ تھی کہ نورالدین سے جماعت کو چھڑا لیتا؟ اور گمراہ نہ ہونے دیتا۔طاقت تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا جس سے ثابت ہوا کہ جماعت کا اجماع غلطی پر نہ تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت تھا۔یہی باتیں نہیں ہیں جنہوں نے مجھے اپنی بات پر قائم رکھا بلکہ ان سے بھی بڑھ کر ہیں