برکاتِ خلافت — Page 149
برکات خلافت 149 الْأَنْهَرُ ۖ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّتَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ - (البقرہ: ۷۵) یعنی یہ لوگ ایسے بگڑے کہ پتھروں کی طرح ہو گئے اور ان کے اندر ترقی کرنے کا کوئی مادہ نہ رہا۔ایک چھوٹا سا بیج بھی جب زمین میں پڑرہے اور اس کو پانی دیا جاتا ہے تو وہ بڑھ کر عظیم الشان درخت ہو جاتا ہے لیکن ایک پتھر سے کوئی لاکھ کوشش کرے۔پھر بھی اس کو ذرا فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔تو انسانی روحانیت کا سب سے ادنیٰ درجہ وہ ہے کہ جس میں علم اور احساس ہی نہیں ہوتا۔اسلام انسانوں میں ایسا احساس اور سمجھ پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جو کام وہ کریں ان کو معلوم ہو کہ ہم کیا کر رہے ہیں لیکن اس درجہ کے انسان جو کہ میں نے بیان کیا ہے کچھ سمجھ نہیں رکھتے۔زمانہ کے واقعات جس طرح الٹائے پلٹائے جاتے ہیں اسی طرح وہ بھی کرتے رہتے ہیں جب انہیں بھوک لگتی ہے پیٹ میں کچھ ڈال لیتے ہیں۔نیند آتی ہے سور ہتے ہیں شہوت ہوتی ہے شہوت رانی کر لیتے ہیں۔اس لئے یہ خدا تعالیٰ کے حضور کسی انعام کے مستحق نہیں ہوتے۔روحانیت کا دوسرا درجہ : اس سے اوپر کا درجہ نباتات سے مشابہ ہے۔اصل میں انسان کے جسم میں ساری چیزیں ہیں۔بعض اجزاء جمادات کے ہیں بعض نباتات کے بعض حیوانات کے۔چنانچہ انسان کی درست غذا ان تینوں چیزوں سے مرکب ہوتی ہے اور چونکہ غذا سے ہی جسم بنتا ہے اس لئے اس کے اعمال اور زندگی میں بھی ان کا اثر ہوتا ہے لیکن کبھی روحانی خیالات حیوانات کے تلے دب جاتے ہیں اور انسان حیوانوں کی طرح ہو جاتا ہے اور کبھی حیوانیت کے جذبات نباتی قوی کے تلے دب