برکاتِ خلافت — Page 142
برکات خلافت 142 سے ہوتا ہے۔اسلام میں اس قدر خوبیاں ہیں کہ یہ خیال بھی نہیں ہوسکتا کہ اگر اسلام کو کسی کے سامنے پیش کریں تو وہ اس کے ماننے سے انکار کر دے۔میں نے اس بات پر بہت غور کیا ہے کہ جب اسلام اس خوبی کا مالک ہے تو پھر کیوں تمام کے تمام لوگ اسے مان نہیں لیتے۔اس کی وجہ مجھے یہی معلوم ہوئی ہے کہ چونکہ غیر مسلم لوگوں کے کانوں میں بچپن سے اور باتیں پڑتی رہتی ہیں اور وہ اسلام کے خلاف باتیں سنتے رہتے ہیں اس لئے جب وہ اسلام کی تعلیم کو سنتے ہیں تو انکار کر دیتے ہیں۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایک ایم اے عیسائی تو اسلام کی خوبیاں نہ سمجھ سکے لیکن ایک مسلمانوں کے گھر پیدا ہونے والا جاہل سے جاہل یہی کہے کہ اسلام سچا مذ ہب ہے اور باقی سب جھوٹے ہیں۔یہ شخص تو اس لئے یہ بات کہتا ہے کہ اس کے ماں باپ مسلمان تھے جن کی وجہ سے شروع سے ہی اس کے کانوں میں اسلام کا سچا ہونا ہی پڑتا رہا ہے اور وہ ایم اے اس لئے نہیں سمجھتا کہ ابتداء سے اس کے کانوں نے اور باتوں کو سنا ہے اور وہی اس پر اثر رکھتی ہیں۔اب وہ ان کے خلاف نہیں سن سکتا۔ایک عیسائی سے میری گفتگو ہوئی وہ کہنے لگا کہ کفارہ کے متعلق میں نے بڑی تحقیقات کی ہوئی ہیں آپ اس کے متعلق گفتگو کریں میں نے اسی کی نسبت باتیں شروع کیں۔تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ یہ مان گیا که واقعی کفارہ خلاف عقل اور خلاف نیچر ہے۔اب میں اسے صرف اس لئے مانتا ہوں کہ عیسائیوں کے گھر پیدا ہوا ہوں۔پس بہت سے دینی کام ایسے ہوتے ہیں جو عادتاً کئے جاتے ہیں۔حنفی مسلمان عموماً کھانا کھانے کے بعد ہاتھ اٹھا کر کچھ پڑھتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ ادا کیا جائے تو بہت اچھی بات ہے لیکن ان میں سے اکثر