برکاتِ خلافت — Page 141
برکات خلافت 141 جو کر و سمجھ کر کرو: بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک کام کرتے ہیں مگر انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ کیوں کرتے ہیں۔وہ عادتا اس کام کو کرتے ہیں جس کا انہیں کوئی نتیجہ نہیں ملتا۔دیکھو ایک مسلمان بائیں ہاتھ سے روٹی نہیں کھا تا بلکہ دائیں سے کھاتا ہے۔جانتے ہو وہ کیوں دائیں سے کھاتا ہے اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے حکم دیا ہے کہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھاؤ۔مگر بتلاؤ کہ کتنی دفعہ کھانا کھاتے وقت تمہیں یہ خیال آیا ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں۔اپنی زندگی کے پچھلے ایک سال دو سال تین سال یا چار سال پر غور کرو کہ کتنی دفعہ تمہیں یہ خیال آیا ہوگا۔بہت سے مسلمان تو ایسے بھی ہوں گے جنہیں ساری عمر میں بھی کبھی یہ خیال نہ آیا ہوگا کہ ہم دائیں ہاتھ سے کیوں کھاتے ہیں اور بائیں سے کیوں نہیں کھاتے۔دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا نیکی کا کام ہے کیونکہ جو ایسا کرتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کا حکم مانتا ہے لیکن جو دائیں ہاتھ سے اس لئے نہیں کھاتا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے بلکہ اس لئے کھاتا ہے کہ بچپن سے اسے اسی کا عادی کیا گیا ہے تو وہ کسی ثواب کا مستحق کس طرح ہو سکتا ہے۔وہ ہر گز ثواب کا مستحق نہیں ہے۔چھوٹے بچوں کو جب رات کے وقت پیشاب آتا ہے تو وہ اوندھے منہ اس طرح لیٹ جاتے ہیں جیسے سجدہ کرتے ہیں۔مگر کیا وہ اس فعل سے کسی ثواب کے مستحق ہو جاتے ہیں ہرگز نہیں کیونکہ وہ تو پیشاب کی وجہ سے اس طرح ہوتے ہیں۔پس بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جو عادتاً کئے جاتے ہیں۔اور یہ ایک ایسا نقص ہے جو بہت خراب کرتا ہے۔گویا یہ زنگ ہے جو انسان کے دل پر جم جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عادتاً کئے ہوئے کاموں کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا خاص طور پر ارادہ کر کے کام کرنے