برکاتِ خلافت — Page 140
برکات خلافت 140 ہر کام میں خدا تعالیٰ ہی مد نظر ہونا چاہئے اور تم اسی کے راضی کرنے کی نیت ہر کام میں کیا کرو۔جب تمہاری ہر کام میں یہ نیت ہوگی تو تمہاری عبادتیں آج اور کل اور پرسوں اور ترسوں اور نتائج پیدا کریں گی اور تمہاری دن بدن ترقی ہی ہوتی جائے گی۔دیکھو ایک کام ایک نیت سے اور اجر پیدا کرتا ہے۔اور وہی کام دوسری نیت سے اور اجر۔اگر کوئی شخص ایک آدمی پر زنبور یا چھو بیٹھا ہوا دیکھے تو وہ جانتا ہے کہ اگر میں نے زنبور یا بچھو کو آہستہ سے پکڑایا ہٹایا تو وہ ضرور کاٹے گا اس لئے وہ زور سے تھپڑ مار کر اسے مار دیتا ہے اور اس کا ایسا کرنا تھپڑ کھانے والے آدمی کے منہ سے کلمات شکر نکلوا تا ہے۔لیکن اگر کوئی کسی کو دکھ دینے کے لئے تھپڑ مارے تو وہ سزا پائے گا۔تو ایک ہی کام سے نیتوں کے فرق سے دو مختلف نتیجے نکل آتے ہیں۔پس تم عادتاً کوئی عبادت اور نیک کام نہ کرو۔بلکہ نیتنا کرو۔کئی آدمی کہتے ہیں کہ قوم کے لئے روپیہ دو۔قوم کے لئے چندہ جمع کرو۔قوم کے لئے یہ کرو اور وہ کرو میں کہتا ہوں قوم کیا چیز ہے۔تم قوم کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے لئے سب چندے دو۔اور کبھی یہ گناہ کے لفظ منہ سے نہ نکالو۔کیا تم سے پہلے تو میں نہ تھیں؟ کیا تمہارے پہلے عزیز اور رشتہ دار نہیں تھے؟ جب تھے تو اس نئی جماعت کے بننے کی کیا ضرورت تھی ؟ جسے تم قوم قوم کہتے ہو تم خوب یا درکھو کہ قوم کوئی چیز نہیں ہے۔خدا تعالیٰ ہی ایک چیز ہے۔پس تمہارے سب اعمال خدا تعالیٰ کے لئے ہی ہوں۔تمہاری ایک ایک حرکت اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، سونا جاگنا سب کچھ خدا کے لئے ہی ہو۔اگر تم ایسا کرو گے تو یقیناً یقیناً تمہارے اعمال کے نتیجے بڑھ چڑھ کر نکلنے شروع ہو جائیں گے۔