برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 169

برکاتِ خلافت — Page 133

برکات خلافت 133 ہے مگر یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند حالا نکہ جب اونگھ کی نفی کر دی گئی تھی تو نیند کی خود ہی نفی ہوگئی پھر نیند کی نفی کی کیا ضرورت تھی۔لیکن خدا تعالیٰ کا کلام کبھی لغو نہیں ہوتا اس میں ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ سینہ اس کو کہتے ہیں کہ جب سخت نیند کی وجہ سے انسان کی آنکھیں بند ہو جائیں۔چنانچہ جب انسان کو بہت زیادہ نیند آئی ہوتی ہے اسی وقت اونگھ آتی ہے اور جب تک نیند کا غلبہ نہ ہو اونگھ نہیں آتی۔تو فرمایا کہ خدا کو کبھی اونگھ نہیں آئی کہ کام کرنے کی وجہ سے وہ تھک گیا ہو۔اور اس پر نیند کا ایسا غلبہ ہوا ہو کہ اس کی آنکھیں بند ہو گئی ہوں اور نہ اسے معمولی نیند آتی ہے۔لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَما فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ : خدا تعالیٰ فرماتا ہے اب بتاؤ کہ جب تمہارا ایسا آتا ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ اسی کا ہے تو اس کے مقابلہ میں اور کسی کو تم کس طرح اپنا آقا بنا سکتے ہو۔پھر لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے سوا اور کسی کو نہیں پوجتے۔اور غیر اللہ کی عبادت نہیں کرتے ہیں البتہ اس لئے ان کی نیاز میں دیتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں اور وہ ہماری شفاعت خدا تعالیٰ کے حضور کریں گے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے حکم کے بغیر تو کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔اس زمانہ میں مسیح موعود سے بڑھ کر کس نے بڑا انسان ہونا تھا۔لیکن حضرت مسیح موعودؓ نے ایک دفعہ جب نواب صاحب کے لڑکے عبد الرحیم خان کے لئے جبکہ وہ بیمار تھا دعا کی تو الہام ہوا کہ یہ بچتا نہیں۔آپ کو خیال آیا کہ نواب صاحب اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قادیان آرہے ہیں ان کا لڑکا فوت ہو گیا تو انہیں ابتلاء نہ آجائے اس لئے