برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 169

برکاتِ خلافت — Page 131

برکات خلافت 131 چار نہیں ، اور ہزاروں لاکھوں نہیں۔جب ایک ہی اللہ ہے تو اس کو چھوڑ کر اور کہاں جاؤ گے۔پھر ہر وقت تمہیں اس کی ضرورت ہے اور ہرلمحہ تم اس کے محتاج ہو۔دنیا میں لوگ بادشاہوں کو ناراض کر لیتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ کیا ہوا اگر یہ بادشاہ ناراض ہو گیا تو اس کے ملک کو چھوڑ کر دوسرے کے ملک میں چلے جائیں گے بات ہی کون سی ہے چین کا بادشاہ اگر ظالم ہے، تو ایران میں۔ایران کا بادشاہ ظالم ہے تو انگلستان میں کوئی پناہ لے سکتا ہے۔لیکن اللہ سے بھاگ کر کوئی کہاں جائے گا کیونکہ کوئی ایسی زمین نہیں ہے جو خدا کی نہ ہو اور کوئی ایسی حکومت نہیں ہے جو خدا کے قبضہ میں نہ ہو۔کوئی دوسرا خدا نہیں ہے کہ انسان اس کی مدد تلاش کرے۔ہندوؤں کا خیال ہے کہ کئی خدا ہیں اور ان کے خداؤں میں جھگڑے بھی ہوتے رہتے ہیں چنانچہ لکھا ہے کہ شو نے ایک آدمی پر ناراض ہو کر اسے مارڈالا لیکن وہ برہما خدا کا پیارا تھا اس نے کہا ہم پیدا کرنے والے ہیں ہم اس کو زندہ کر لیں گے برہما نے اسے زندہ کر دیا۔غرض شو اسے مارتے جاتے اور برہما زندہ کرتے جاتے یہیں ان کا جھگڑا لگا رہا۔یہ ہندوؤں کے خیالات ہیں مگر ہمارے ہاں تو ایسے خدا نہیں ہیں کہ ایک مارے تو دوسرا زندہ کرلے۔ایک ناراض ہو تو دوسرا راضی ہو جائے۔دیکھو ایک نوکر اپنے آقا کو جواب دے سکتا ہے کہ میں تمہاری نوکری نہیں کرتا کیونکہ نوکری اسے دوسری جگہ مل جاتی ہے۔مگر ہم خدا تعالیٰ کو یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ ایک ہی ہمارا آقا ہے اور اسکے سوا اور کوئی نہیں ہے۔اَلْحَيُّ الْقَيُّومُ : پھر آقا ایسا بھی ہوتا ہے جو مر جاتا ہے مگر ہمارا آقاوہ ہے جسے کبھی موت نہیں آسکتی۔وہ الحی ہے اور ایسا آقا نہیں کہ اس سے کبھی قطع تعلق ہو جائے