برکاتِ خلافت — Page 128
برکات خلافت 128 میں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيْم (التين : ۵) ہم نے انسان کو اچھی سے اچھی حالت میں پیدا کیا ہے جب خدا نے انسان کو اچھی حالت میں پیدا کیا ہے۔تو پھر جنت سے وہ کسی کے گناہ کے بدلہ اسے کہاں نکالتا ہے۔ہر ایک بچہ جو پیدا ہوتا ہے اس کا مکان جنت میں ہوتا ہے لیکن پھر وہ اپنے ہاتھ سے جنت کے گھر کو گرا کر دوزخ میں بناتا ہے۔پس تم اپنے دلوں میں یہ خیال مت کرو کہ کوئی اور آدم تھا جس کو شیطان نے جنت سے نکالا تھا بلکہ تم ہی ہو جن کے پیچھے شیطان لگارہتا ہے اور کئی لوگوں کو جنت سے نکال دیتا ہے۔اگر کوئی شیطان کے قبضہ میں ہے تو وہ بھی اور اگر کوئی نہیں تو وہ بھی ہر وقت ہوشیار اور چوکس رہے تب ہی فائدہ ہوگا اگر ایک مجلس بیٹھی ہوئی ہو اور انہیں ایک آدمی آکر کہے کہ تم میں سے ایک آدمی کو پھانسی دی جائے گی۔پھر اگر وہ یہ سن کر سب کے سب وہاں بیٹھے رہیں اور ہر ایک یہ خیال کرے کہ مجھے نہیں کسی دوسرے کو پھانسی ملے گی تو ان میں سے ایک نہ ایک ضرور ملے گا۔لیکن اگر سب کے سب اس جگہ سے چلے جائیں تو گویا ہر ایک کی جان بچ گئی کیونکہ کون بتا سکتا کہ پھانسی پانے والا کون تھا۔ہوشیار ہو جاؤ: میں تمہیں بڑے زور سے بتلاتا ہوں کہ دنیا میں لوگ خدا تعالیٰ سے غافل ہو گئے ہیں۔حالانکہ اس سے بڑھ کر خوبصورت ، اس سے بڑھ کر محبت کرنے والا ، اس سے بڑھ کر پیارا اور کوئی نہیں ہے۔تم لوگ اگر پیار کرو تو اس سے کرو۔محبت لگاؤ تو اسی سے لگاؤ ، ڈرو تو اسی سے ڈرو، خوف کرو تو اسی سے کرو۔اگر وہ تمہیں حاصل ہو جائے تو پھر تمہیں کسی چیز کی پرواہ نہیں رہ جاتی اور کوئی روک تمہارے سامنے نہیں ٹھہر