برکاتِ خلافت — Page 123
برکات خلافت 123 کے متعلق وہ خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوگا۔پس تم ہر ایک لیکچر کوغور سے سنو اور کان کھول کر سنو پھر اس کو یاد رکھو اور اس پر عمل کرو۔میں اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے تو فیق چاہتا ہوں کہ اگر میں بستر مرگ پر بھی ہوؤں تو یہی میری آخری بات ہو اور اگر کوئی میری پہلی بات ہو تو وہ بھی یہی ہو۔اس کے مقابلہ میں دنیا کی ساری باتیں بیچ میں نعمتیں بے قدر ہیں مال و اموال نا کارہ ہیں اور آرام و آسائش کے سامان بے حقیقت ہیں۔آج کل یہ ایک بہت بڑا نقص پیدا ہو گیا ہے کہ عام طور پر لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ لیکچروں میں مزہ کیا آتا ہے۔مگر میرے پیارو! تم روپیہ خرچ کر کے مزے یا تماشہ کے لئے یہاں نہیں آئے۔تمہارے یہاں آنے کی کوئی اور ہی غرض تھی اور ہم نے جو تمہیں یہاں بلایا ہے ہماری بھی کوئی اور ہی غرض تھی۔پس اگر کوئی اس غرض کو نہیں سمجھا تو وہ ہمارے لئے نہیں آیا بلکہ اپنے نفس کے خوش کرنے کے لئے آیا ہے اور جو کوئی مزہ لینے یا تماشہ دیکھنے کے لئے آیا ہے اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے اگر کسی کا ایسا خیال تھا تو وہ تو بہ اور استغفار کر لے۔کیونکہ ایسا انسان جو وقت اور روپیہ ضائع کر کے وطن اور عزیزوں کو چھوڑ کر تماشہ کے لئے کہیں جاتا ہے اس کو خدا تعالیٰ کے حضور ایک ایک پیسہ اور ایک ایک لمحہ کے لئے جواب دہ ہونا پڑے گا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو کیوں اس طرح ضائع کر دیا۔پس اپنے سینوں کو ٹولو اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔لیکچر مزے کی خاطر نہ سنو۔لیکچر میں ہر قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔بعض ہنسی کی بھی ہوتی ہیں مگر تمہاری کبھی یہ خواہش نہیں ہونی چاہئے کہ وعظ میں ہنسی کی باتیں ہوں اور