برکاتِ خلافت — Page 121
برکات خلافت 121 کہ مختلف کھانوں سے پیٹ بھر جائے اور اس لڈو کا مزا پورے طور پر نہ لے سکیں۔جب کھانے سے فارغ ہو چکے تو بھتیجوں نے کہا آپ نے وعدہ کیا تھا کہ کل تمہیں ایسا لڈو کھلائیں گے جسے ایک لاکھ آدمیوں نے بنایا ہے اب اپنا وعدہ پورا کیجئے اس نے کہا مجھے اپنا وعدہ یاد ہے اور یہ کہہ کر اسی طرح کا ایک لڈو جس طرح کے بازار میں بکتے ہیں نکال کر ان کے سامنے رکھ دیا۔اس لڈو کو دیکھ کرلڑکوں کو سخت مایوسی ہوئی اور کہا کہ آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ ایسا لڈو کھلائیں گے جو قریباً ایک لاکھ آدمیوں نے بنایا ہوگا لیکن اب آپ نے ایک معمولی سالڈ و سامنے رکھ دیا ہے یہ کیا بات ہے۔چچا نے کہا قلم لے کر لکھنا شروع کرو کہ اس لڈو کو کتنے آدمیوں نے بنایا ہے۔میں ثابت کر دوں گا کہ واقع میں اس لڈو کوکئی لاکھ آدمیوں نے بنایا ہے۔دیکھو ایک حلوائی نے اسے بنایا ہے اس کے بنانے میں جو چیزیں استعمال ہوئی ہیں ان کو حلوائی نے کئی آدمیوں سے خریدا۔پھر ان میں سے ہر ایک چیز کو ہزاروں آدمیوں نے بنایا ہے۔مثلا شکر کو ہی لے لو اس کی تیاری پر کتنے ہزار آدمیوں کی محنت خرچ ہوئی ہے کوئی اس شکر کو ملنے والے ہیں ، کوئی رس نکالنے والے کوئی نیشکر کھیت سے لانے والے ، پھر ہل جو تنے والے، پانی دینے والے ، پھر ہل میں جولو ہا اور لکڑی خرچ ہوا اس لوہے کے نکالنے ،صاف کر نے اور بنانے والے لکڑی کے کاٹنے اور گھڑنے والے۔غرض اسی طرح سب آدمیوں کا حساب لگاؤں تو کس قدر بنتے ہیں۔پھر شکر کے سوا اس میں آٹا ہے اس کے بنانے والے جس قدر ہیں اس کا اندازہ لگاؤ اسی طرح اگر تم تمام چیزوں کے بنانے والوں کا شمار کرو، تو کیا کئی لاکھ بنتے ہیں یا نہیں؟ بھتیجوں نے یہ بات سن کر کہا ہاں ٹھیک ہے۔