برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 169

برکاتِ خلافت — Page 109

برکات خلافت 109 ایک تصوف کا لطیفہ: زکوۃ کے فوائد میں سے ایک اور عظیم الشان فائدہ ہے جس سے صوفیانہ مذاق کے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور وہ یہ کہ انسان جب مال کماتا ہے تو خواہ وہ کتنی ہی کوشش کرے کہ حرام مال اس کے مال میں شامل نہ ہولیکن یہ بات بالکل ممکن ہے کہ غلطی سے ناجائز مال اس کے مال میں مل جائے۔مثلاً ایک سوداگر کپڑا بیچتا ہے اسے نہیں معلوم ہوتا کہ اس میں سوراخ ہیں اور کپڑا نا کارہ ہو چکا ہے وہ خریدار کو دے کر قیمت لے لیتا ہے اور گو اس سے غلطی سے ہی یہ کام ہوا ہے لیکن جو رو پید اس کے پاس آیا ہے وہ اس کا حق نہیں اور وہ اس کا مالک نہیں گو بے علمی کی وجہ سے ہی اس پر اس نے قبضہ کیا ہے اس مال کو کھا کر اس انسان کے گوشت پوست میں کوئی برکت پیدا نہ ہوگی اور نہ اس کے دوسرے مال میں اس کے ذریعہ کوئی برکت ہوگی لیکن جب یہ شخص سال کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے مال میں سے ایک حصہ زکوۃ کا نکالتا رہے گا تو اس کا مال پاک ہوتا رہے گا۔اور اگر کوئی حصہ مال کا غیر طیب تھا تو وہ اس کی جان پر یا اس کے نفس پر خرچ نہ ہوگا بلکہ زکوۃ کے ذریعہ سے حقیقی مالک یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس واپس چلا جائے گا اور اس کا مال طیب رہے گا۔اور حلال مال کے کھانے اور استعمال کرنے سے اس کی ہر چیز میں برکت پیدا ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح ایک اور بات جس کی طرف ہماری جماعت کی توجہ کی ضرورت ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے سوانح کی حفاظت ہے۔ہمارے زمانہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے سب سامان موجود ہے۔قلم ، دوات، سیاہی، کاغذ مطبع وغیرہ لیکن اگر ہم اس