برکاتِ خلافت — Page 107
برکات خلافت 107 لئے ضروری نہیں ہے کہ ان پر زکوۃ دی جائے لیکن اگر کوئی دے دے تو اچھا ہے۔جو زیور نہیں پہنے جاتے ان کی زکوۃ ضرور دینی چاہئے۔زکوۃ کے متعلق ایک مفصل رسالہ لکھنے کے لئے میں نے کہہ دیا ہے اس میں سب قواعد اور ہدایات دی جائیں گی اس کے مطابق عمل ہونا چاہئے۔زکوۃ کے فوائد: زکوۃ کا حکم ایک بے نظیر حکم ہے اور اسلام کی بے انتہاء خوبیوں میں سے ایک روشن خوبی ہے اور بہت سی جماعتوں پر اس کے ذریعہ اسلام کی عظمت کی حجت قائم کی جاسکتی ہے۔مثلاً یورپ میں آج کل دو گروہ ہیں۔ایک کہتا ہے کہ جتنا کوئی کماتا ہے اسے کمانے دو اور اس کو اپنی محنت کا ثمرہ اٹھانے دو۔دوسرا گر وہ کہتا ہے کہ سارے ملک کے لوگ کام کرتے ہیں تب ہی دولت آتی ہے اس لئے جو لوگ بہت مالدار ہیں ان سے چھین کر مفلس اور نادار لوگوں کو دینا چاہئے تا کہ وہ بھوکے نہ مریں اور ملک کے کاروبار میں خلل واقع نہ ہو۔خدا تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کی باتوں کو رد کر کے ٹھیک اور درست بات بیان فرما دی ہے اور اسلام نے افراط اور تفریط دونوں کو چھوڑ کر عمدہ بات لے لی ہے۔میرا یقین ہے کہ اگر صرف زکوٰۃ کا مسئلہ لے کر یورپ کے سامنے پیش کیا جائے تو کسی کی طاقت نہیں کہ اس کی صداقت اور عمدگی سے انکار کر سکے۔بعض لوگ زکوۃ کو ایک چٹی خیال کرتے ہیں لیکن زکوۃ چھٹی نہیں ہے اس کے سمجھنے کے لئے میں تمہیں ایک موٹی بات بتا تا ہوں۔گورنمنٹ رعایا سے ٹیکس لیتی ہے پھر اس ٹیکس سے ملک اور رعایا کی حفاظت کے لئے فوج اور پولیس تیار کرتی ہے۔رعایا کے آرام کے لئے سڑکیں اور شفا خانے بناتی ہے اور طرح طرح کے آرام بہم پہنچاتی