برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 169

برکاتِ خلافت — Page 85

برکات خلافت 85 کی ضرورت ہوئی۔اسی شخص کی جس نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ رجسٹر بنایا جائے ایک لڑکی تھی۔حضرت مسیح موعود نے اس دوست کو اس شخص کا نام بتایا کہ اس کے ہاں تحریک کرو لیکن اس نے نہایت غیر معقول عذر کر کے رشتہ سے انکار کر دیا اور لڑ کی کہیں غیر احمد یوں میں بیاہ دی۔جب حضرت صاحب کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ آج سے میں شادیوں کے معاملہ میں دخل نہیں دوں گا۔اور اس طرح یہ تجویز رہ گئی۔لیکن اگر اس وقت یہ بات چل جاتی تو آج احمدیوں کو وہ تکلیف نہ ہوتی جواب ہورہی ہے۔شادی ضروری ہے: ہر ایک قوم کے دنیا میں قائم رہنے اور ترقی کرنے کے لئے شادیوں کا ہونا ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی حکم ہے کہ شادی کی جائے پھر آنحضرت ﷺ بھی فرماتے ہیں کہ ہر ایک مومن کو شادی میں رہنا چاہئے جو بغیر شادی کے مرتا ہے وہ بطال ہے۔لیکن احمدیوں کے لئے اس ضروری مرحلہ کے طے کرنے کے لئے بہت سی وقتیں ہیں اور وہ اس لئے ہیں کہ غیر احمدی تو ناراض ہیں اس لئے وہ انہیں اپنی لڑکیاں نہیں دیتے۔پھر ایک گاؤں میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کو خواہ وہ غریب ہی ہوں اپنی لڑکیاں دے دیا کرتے ہیں کہ لڑکی اپنے گھر میں ہی رہے گی لیکن احمدی ایک جگہ نہیں بلکہ کسی کسی گاؤں میں ہیں اور وہ بھی بہت تھوڑے اس لئے اگر احمدی احمد یوں کو ہی اپنی لڑکیاں دیں تو انہیں دور دراز دینی پڑتی ہیں اور دور رہنے والوں کے حالات اور عادات کو انہیں بہت تجس سے دیکھنا ہوتا ہے۔لڑکے والے یہ دیکھتے ہیں کہ لڑکی ایسی ہوایسی ہوتب شادی کی جائے اور لڑکی والے کہتے ہیں کہ جب لڑکی دور بھیجنی ہے تو پہلے تو لڑکا بھی کوئی اچھی حیثیت کا ہونا چاہئے اس لئے اس دیر میں اور مشکل سے شادیاں ہوتی ہیں۔پھر اگرلڑکی کو کوئی دیر تک