برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 169

برکاتِ خلافت — Page 65

برکات خلافت 65 شیطان ہو جاتا ہے یعنی سورج کے چڑھنے یا ڈوبنے کے وقت نماز پڑھنے والا بجائے قرب الہی حاصل کرنے کے شیطان بن جاتا ہے۔اسی طرح روزہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ رکھنے والے کا میں (اللہ ) ہی اجر ہوں مگر آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ عید کے دن جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ شیطان ہیں۔پس گو روزہ رکھنا ایک نہایت اعلیٰ عبادت تھی لیکن رسول کریم ﷺ نے عید کے دن روزہ رکھنے کو شیطانی فعل قرار دیا جس سے معلوم ہوا کہ ایک چیز ایک وقت میں اچھی ہوتی ہے تو دوسرے وقت وہی بری ہو جاتی ہے۔مثلاً ایک شخص کی پیٹھ میں درد ہورہا ہو اور وہ کسی کو کہے کہ میری پیٹھ پر مکیاں مارو۔میں تمہیں انعام دوں گا تو اس طرح مکیاں مارنے پر اس شخص کو انعام ملے گا۔لیکن اگر کوئی مجلس میں بیٹھا باتیں کر رہا ہو اور اس کا نوکر پیچھے سے آکر اس کی پیٹھ پر مکیاں مارنی شروع کر دے تو جانتے ہو کہ اس سے کیا سلوک کیا جائے گا۔اس کو سزادی جائے گی کیونکہ موقع کے مطابق ہر ایک بات ہوتی ہے۔ہرسخن وقتے و ہر نکتہ مقامی دارد۔تو بعض اوقات ایک بات خراب ہوتی ہے اور بعض وقت وہی اچھی ہو جاتی ہے۔سیاست سے جو مسیح موعود نے منع کیا ہے تو اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اس کا موقع اور محل نہیں ہے اور خواہ گورنمنٹ اس کی اجازت بھی دیتی ہے تاہم یہ ناجائز ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ گورنمنٹ ایک حد تک سیاسی امور کی طرف توجہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس کام کا انجام خراب ہوگا اس لئے میں اپنی جماعت کو اس کی اجازت نہیں دیتا۔ایک دفعہ صوبہ کے ایک بڑے افسر سے حضرت صاحب ملنے