برکاتِ خلافت — Page 36
برکات خلافت 36 کی تھی۔اور مجھے یہ الہام ہوا ہے شَرُّ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔(ترجمہ) شرارت ان لوگوں کی جن پر انعام کیا تو نے۔(۲۶ مئی ۱۹۰۵ء تذکره صفحه ۵۵۰ ایڈیشن چہارم) آج اگر اس فتنہ میں بعض وہ لوگ شامل نہ ہوتے جن پر حضرت صاحب انعام فرماتے تھے تو وہ الہام کیونکر پورا ہوتا خصوصاً وہ شخص کہ جس کو مخاطب کر کے آپ نے اپنا یہ الہام سنایا۔(۵) ایک ۱۳ مارچ ۱۹۰۷ء کا الہام ہے ۱۳،مارچ کو ہی حضرت خلیفتہ المسح الاول فوت ہوئے۔۱۳،مارچ کو ہی لاہور سے ٹریکٹ شائع ہوا۔اگر یہ ٹریکٹ شائع نہ ہوتا تو یہ الہام کہ لاہور میں ایک بے شرم ہے کس طرح پورا ہوتا۔( تذکرہ صفحه ۷۰۴ ایڈیشن چهارم) (1) کہتے ہیں پہلے ہمیں نیک کہا جاتا تھا اب کیوں برا بھلا کہا جاتا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ انسان کی حالت بدلتی رہتی ہے۔نیک بد اور بد نیک ہو جاتے ہیں مبارک انسان وہی ہے جس کا انجام بخیر ہو۔پھر اگر اس فتنہ میں بعض لوگ شامل نہ ہوتے جنکو ہم پہلے صالح سمجھا کرتے تھے اور جن کے نیک ارادے ہوا کرتے تھے تو حضرت مسیح موعود کا یہ کشف کہ آپ نے مولوی محمد علی صاحب کو رویا میں کہا۔آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ ( جون ۱۹۰۴ء البدر جلد ۳ نمبر (۲۹) کیونکر پورا ہوتا۔(۷) پھر اگر کوئی لاہور میں ۱۹۰۹ء میں لاہور کی جماعت کو جمع کر کے ان سے اس بات کے لئے انگو ٹھ نہ لگواتا اور دستخط نہ کروا تا کہ خلیفہ مسیح کا کوئی دخل نہیں ہے۔اصل