برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 169

برکاتِ خلافت — Page 31

برکات خلافت 31 جواب میں کہا کہ دیکھ اتنے برس سے میں تیری خدمت کرتا ہوں اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی۔مگر مجھے تو نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی منا تا۔لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا جس نے تیرا مال متاع کسبیوں میں اڑا دیا۔تو اس کے لئے تو نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا۔اس نے اس سے کہا بیٹا تو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے۔لیکن خوشی منانی اور شادمان ہونا مناسب تھا۔کیونکہ تیرا یہ بھائی مردہ تھا۔اب زندہ ہوا۔کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔“ آیت: ۱۱ تا ۳۲ مطبوعہ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی ۱۹۲۲ء انار کلی لاہور ) سو میں بہت وسعت حوصلہ رکھتا ہوں۔اگر کوئی پچھتاتا ہوا آئے تو میں اس کی آمد پر بنسبت ان کے بہت خوش ہوں گا جنہوں نے پہلے دن بیعت کر لی تھی کیونکہ وہ گمراہ نہیں ہوئے اور یہ گمراہ ہو گیا تھا۔وہ کھوئے نہیں گئے اور یہ کھویا گیا تھا لیکن پھر مل گیا ہے۔باپ اپنے بیٹوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔مگر اس باپ سے بیٹے کے دیکھنے کی خوشی پوچھو۔جس کا بیٹا بیمار ہو کر تندرست ہو گیا ہو۔میں نفاق کی صلح ہرگز پسند نہیں کرتا۔ہاں جو صاف دل ہو کر اور اپنی غلطی کو چھوڑ کر صلح کے لئے آگے بڑھے میں اس سے زیادہ اسکی طرف بڑھوں گا۔ایک ضروری بات: میں اب ایک اور بات بتا تا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جو منافقت کی صلح کرنی چاہتے ہیں وہ یادرکھیں کہ یہ بھی نہیں ہو سکے گی کیونکہ پچھلے دنوں میں جو کچھ ہوا ہے وہ منشاء الہی کے مطابق ہوا ہے۔ہم میں شامل ہونے والے تو آئیں گے اور آتے ہی رہیں گے اور ان کو وہی رتبہ اور درجہ دیا جائے گا جو انکا پہلے تھا مگر جو ہونا تھا وہ ہو گیا