برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 169

برکاتِ خلافت — Page 30

برکات خلافت 30 30 بدچلنی میں اڑا دیا۔اور جب سب خرچ کر چکا تو اس ملک میں سخت کال پڑا اور و محتاج ہونے لگا۔پھر اس ملک کے ایک باشندہ کے ہاں جا پڑا۔اس نے اسکو اپنے کھیتوں میں سور چرانے بھیجا۔اور اسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سور کھاتے تھے انہیں سے اپنا پیٹ بھرے۔مگر کوئی اسے نہ دیتا تھا۔پھر اس نے ہوش میں آکر کہا کہ میرے باپ کے کتنے ہی مزدوروں کو روٹی افراط سے ملتی ہے۔اور میں یہاں بھوکا مر رہا ہوں۔میں اٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اس سے کہوں گا۔کہ اے باپ میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں مجھے اپنے مزدوروں جیسا کرلے۔پس وہ اٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔وہ ابھی دور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو ترس آیا۔اور دوڑ کر اس کو گلے لگالیا اور بو سے لئے بیٹے نے اس سے کہا کہ اے باپ میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔باپ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ اچھے سے اچھا جامہ جلد نکال کر اسے پہناؤ۔اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ۔اور پلے ہوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تا کہ ہم کھا کر خوشی منائیں۔کیونکہ میرا یہ بیٹا مردہ تھا اب زندہ ہوا۔کھویا ہوا تھا۔اب ملا ہے پس وہ خوشی منانے لگے۔لیکن اس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا۔جب وہ آکر گھر کے نزدیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سنی۔اور ایک نوکر کو بلا کر دریافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔اس نے اس سے کہا تیرا بھائی آ گیا ہے اور تیرے باپ نے پلا ہوا کچھڑ ا ذبح کرایا ہے۔اس لئے کہ اسے بھلا چنگا پایا۔وہ غصے ہوا اور اندر جانا نہ چاہا۔مگر اس کا باپ باہر جا کے اسے منانے لگا۔اس نے اپنے باپ سے