برکاتِ خلافت — Page 27
برکات خلافت 27 ہم منافق کہتے ہیں۔تو ہم کہتے ہیں کہ بقول ان کے مان لیا کہ اس وقت جماعت کے بیسویں حصہ نے بیعت کی ہے مگر اس وقت یعنی حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت تو ساری جماعت نے ایک خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت جماعت نے گمراہی پر اجماع کیا تھا۔لیکن یہ نظیر پہلے کہیں سے نہ ملے گی۔حضرت مسیح کی وفات پر حضرت مسیح موعود بہت بڑی دلیل تو فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ (سوره مائده : ۱۱۸) کی دیا کرتے تھے اور دوسری بڑی بھاری دلیل صحابہ کے اجماع کو بتلاتے تھے۔مگر آج کہا جاتا ہے کہ مسیح موعود کی وفات کے بعد چھ سال تک جماعت احمدیہ کا اجماع گمراہی پر رہا ہے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کے بعد جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو دیکھا اور آپ کی صحبت سے فیض اٹھایا دوسرے لوگ کسی غلط مسئلہ پر اجماع کر لیں مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کے صحابی ایسا کریں۔اگر یہ لوگ ہی ایسا کریں تو حضرت مسیح موعود کے دنیا میں آنے کا فائدہ ہی کیا ہوا۔اس میں شک نہیں کہ ہم میں سے کچھ لوگ کمزور بھی ہیں۔لیکن کیا آنحضرت ﷺ کے وقت منافقوں کا گروہ نہیں تھا اور کیوں بعض اشخاص کو جو کہ آپ کے صحابہ کے گروہ میں شامل رہتے تھے اب رضی اللہ عنہ نہیں کہا جا تاحتی کہ ان کو صحابی بھی نہیں کہا جاتا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ منافق تھے۔وہ زبان سے آنحضرت ﷺ کو مانتے تھے لیکن ان کا دل نہیں مانتا تھا۔اسی طرح اب ہم کہتے ہیں کہ جو دل سے مسیح موعود کے احکام کو مانتے رہے اور مانتے ہیں ان کو ہم آپ کے صحابہ میں سے کہیں گے اور جو نہیں مانیں گے ان کو نہیں کہیں گے۔کیا عبداللہ بن ابی آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں رہتا تھا اور