برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 169

برکاتِ خلافت — Page 158

برکات خلافت 158 خدا کے بلائے سے بولتا تھا تو اب اس کو وہ مقام دیا جاتا ہے اور اس کے نفس کے اندر ایسی طہارت پیدا ہو جاتی ہے کہ جو کچھ یہ کہتا ہے خدا تعالیٰ بھی اسی کے مطابق اپنے احکام جاری کر دیتا ہے۔تو یہ درجہ محبوبیت کا درجہ ہے۔چنانچہ ایسے لوگوں کی بہت باتیں جو وہ اپنے اجتہاد سے کہتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو بھی پورا کر دیتا ہے۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيْمٌ - (ال عمران : ۳۲) اے رسول ان کو کہہ دے کہ میں خدا کا محبوب ہوں اگر تم بھی اس کے محبوب بننا چاہتے ہو تو مجھ سے محبت کرو یہ حالت ایسی نہیں ہوتی کہ انسان صرف خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہوتا ہے بلکہ ایسی روحانیت ترقی کر جاتی ہے کہ خدا کے سوا کسی اور سے کچھ بھی اس کا تعلق نہیں رہتا۔اور جب تک کوئی انسان اس میں سے ہو کر خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی کوشش نہ کرے نہیں پہنچ سکتا۔غرض کہ یہ احساسات کی ترقی کے درجے ہیں جو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بیان فرمائے ہیں ان میں جتنا کوئی انسان بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی بلند ہوتا جاتا ہے۔آنحضرت مہ کی نوبت تو یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ فرماتے ہیں تَنَامُ عَيْنِي وَلَا يَنَامُ قَلْبی - بخاری کتاب المناقب باب : كان النبي صلى الله عليه وسلم تَنَامُ عَيْنِهِ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ) گو میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔بعض دفعہ سو جاتے لیکن پھر اٹھ کر بلا وضوء نماز پڑھ لیتے کیونکہ آپ کو ایسی جلاء قلب عطا ہوئی تھی کہ سوتے ہوئے بھی آپ کے احساسات باطل نہ ہوتے تھے چنانچہ ایک دفعہ جب آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ تو خراٹے لے رہے تھے پھر بغیر