برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 169

برکاتِ خلافت — Page 146

برکات خلافت 146 کے لینے کی خواہش کی۔تو جس بات کی عادت ہو جائے اس کی تکلیف کم ہو جاتی ہے خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ جب دوزخیوں کی جلدیں پک جائیں گی تو ہم ان کی جلدیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کو محسوس کرتے رہیں۔جولوگ عادتا نیکی کا کوئی کام کرتے ہیں ان کو کوئی اجر نہیں مل سکتا۔اسی لئے کسی کو جو عذاب ہوتا ہے جب اس کو اس کی عادت ہو جاتی ہے تو اس کی تکلیف بھی کم ہو جاتی ہے گویا عادت ایک پٹی ہے جو کسی زخم کو ڈھانپ لیتی ہے حالانکہ اس کے اندر گند ہوتا ہے۔تم خوب یادرکھو کہ عادت کی نماز نماز نہیں ہوتی۔عادت کی زکوۃ زکوۃ نہیں ہوتی۔عادت کا روزہ روزہ نہیں ہوتا اور عادت کا حج حج نہیں ہوتا۔کیا مسیح موعود سے پہلے لوگ نمازیں نہیں پڑھا کرتے تھے۔زکوۃ نہیں دیا کرتے تھے روزہ نہیں رکھا کرتے تھے۔حج نہیں کیا کرتے تھے۔سب کچھ تھا مگر ان کی نیتیں نہ تھیں ریاء تھا اس لئے انہیں کچھ فائدہ نہ ہوتا تھا لیکن تمہارے سب کاموں میں ایک ہی چیز مد نظر ہونی چاہئے اور وہ اللہ ہے۔اگر تم اس بات پر عمل کرو گے تو تم روحانیت میں فوری تبدیلی دیکھو گے پس تم کسی بات کو عادت کے طور پر نہ کرو بلکہ نیت سے کرو۔اسلام کیا چاہتا ہے: اسلام یہی چاہتا ہے کہ وہ عادت کو مٹائے اور یہی اس کا بڑا کام ہے۔اسلام عادت کا دشمن ہے کیونکہ عادت کی وجہ سے کوئی نیکی نیکی نہیں رہ سکتی۔اسلام کہتا ہے کہ جو کام انسان کرے رضائے الہی کے لئے کرے۔تب جو چیز وہ چاہتا ہے اس کو مل جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کُلَّا نُمِدُّ هُوَ لَاءِ وَهُوَ لَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُوراً (بنی اسرائیل: ۲۱) ہم تو ہر ایک کو مدد دیتے