برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 169

برکاتِ خلافت — Page 132

برکات خلافت 132 پھر وہ القیوم ہے۔کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اب تو میرا یہ آتا ہے لیکن پہلے میں فلاں کے پاس ملازم رہ چکا ہوں اس لئے اس کا بھی مجھ پر احسان ہے اور مجھے اس کی قدر کرنی بھی ضروری ہے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں تمہارا آج خدا نہیں بنا بلکہ ہمیشہ سے خدا ہوں تم پر کسی کا پچھلا احسان نہیں ہے۔میں وہ خدا ہوں جو ہمیشہ سے قائم رہنے والا اور تمہیں قائم رکھنے والا ہوں۔اس لئے تم پر میرا ہی احسان ہے۔قیوم کے دو معنے ہیں (۱) ہمیشہ سے قائم رہنے والا (۲) سب کو قائم رکھنے والا۔لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ: کوئی کہے کہ مان لیا خدا ایک ہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔وہ ہمیشہ زندہ ہے اور وہی ہمارا پہلے آقا تھا وہی اب ہے مگر کبھی ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ خدا کو نیند آئے اور وہ سو جائے تو اس وقت اس کی جگہ اس کے در باری کا روبار کریں اس لئے ہمیں انہیں بھی خوش رکھنا چاہئے اور ان کی خوشامد کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارا وہ اللہ ہے کہ اسکو کبھی اونگھ اور نیند نہیں آتی۔تم اس کو دنیاوی بادشاہوں اور حاکموں کی طرح نہ سمجھو جہاں کہ تمہیں درباریوں کی خوشامد کرنی پڑتی ہے۔تمہارا رب ایسا نہیں کہ کبھی اسے اونگھ آئے یا وہ سو جائے وہ ہر وقت جاگتا ہے اور ہر ایک بات کا خود نگران ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے کیا ہی لطیف بات بیان فرمائی ہے فرما یالا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ کہ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ترتیب کلام کا یہ قاعدہ ہے کہ پہلے چھوٹی باتوں کا ذکر ہوتا ہے اور پھر بڑی کا۔اگر اس کے خلاف کیا جائے تو کلام غلط ہو جاتا ہے۔مثلاً یہ تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص سخت بیمار نہیں تھا بلکہ وہ تو تھوڑا بھی بیمار نہ تھا۔لیکن اگر یہ کہا جائے کہ فلاں شخص تھوڑا بیمار نہیں تھا بلکہ وہ تو زیادہ بھی نہ تھا تو فقرہ غلط ہو جاتا ہے اس لئے پہلے بڑا اور پھر چھوٹا درجہ کسی چیز کا بیان کیا جاتا