برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 169

برکاتِ خلافت — Page 117

برکات خلافت 117 خرچ کر رہے ہیں۔پس تکلیف میں تم اور وہ برابر ہو۔ہاں تم جن انعامات کے امیدوار ہو وہ نہیں۔پس کیسے افسوس کی بات ہوگی اگر تم باوجود اس قدر امیدوں کے تھک جاؤ اور دشمن باوجود ہر قسم کی مایوسی کے اپنی محنت نہ چھوڑے اور اپنے کام میں لگا رہے اور جھوٹ کے پھیلانے کے لئے ہر ایک قسم کی تکلیف برداشت کرے۔تمہارے لئے خدا تعالیٰ کے انعاموں کا دروازہ کھلا ہے جس قدر حاصل کر سکتے ہو کر لو۔اس وقت روپیہ کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ اپنے کام کو آپ ہی چلاتا ہے وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں مگر یہ ایک خدمت کا موقع ہے جو اس نے ہماری جماعت کو دیا ہے اور یہ اس کا فضل ہے ورنہ اس کے کام تو بہر حال چلیں گے۔کچھ لوگ نکل گئے ہیں تو بھی کام چل رہا ہے۔لیکن جو خدا کا کام کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے انصار میں داخل ہو جاتا ہے۔پس جہاں تک تم سے ہو سکے اپنی طاقت بھر کام کرتے رہو۔پچھلے سال ضلع گورداسپور کی جماعت نے چھ سات ہزار روپے دیئے تھے امید ہے کہ اس سال بھی علاوہ ماہوار چندوں کے وہ تین ہزار تو اور زیادہ دے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ باقی روپیہ کے لئے آپ کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کام کے پورا کرنے کی توفیق دے جس کے لئے اس نے سلسلہ احمدیہ کی بنیا د رکھی ہے۔آمین