برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 169

برکاتِ خلافت — Page 102

برکات خلافت 102 کے گھر ہوتی جاتی ہیں ہم کہتے ہیں کہ اگر احمدی لڑکوں کی شادیاں غیر احمدیوں کے ہاں کی جائیں تو احمدی لڑکیاں کہاں جائیں۔کیا تم یہ پسند کرتے ہو؟ کہ وہ غیر احمد یوں کے ہاں جا کر ابتلاؤں میں پھنسیں۔پس جماعت وہی قائم رہ سکتی ہے جو اپنے تمام افراد کا خیال رکھے۔آج کل تم اس بات کا خیال کر کے غیروں کی لڑکیاں نہ لو اور اپنوں کو بتلاؤں سے بچاؤ تا کہ تمہاری جماعت مضبوط ہو۔نماز با جماعت اس کے بعد ایک اور نقص ہے جس کی طرف میں آپ لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔بعض نقص گو چھوٹے نظر آتے ہیں مگر بعد میں وہی بہت بڑھ جاتے ہیں۔اور بڑے نقصان کا موجب ہو جاتے ہیں۔ہماری جماعت میں ایک نقص ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ بہت حد تک مجبوری کی وجہ سے ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ ہر ایک احمدی کو خوب ہوشیار رہنا چاہئے۔اگر اس نقص کے دور کرنے کی طرف ہماری جماعت نے توجہ اور غور نہ کیا تو تھوڑی مدت میں یہ ایک خطر ناک صورت اختیار کر لے گا اور سخت تباہی کا موجب ہو جائے گا۔وہ نقص نماز با جماعت میں سستی کا ہے بے شک نماز با جماعت پڑھنے میں احمدیوں کو ایک دقت ہے اور وہ یہ کہ غیر احمدیوں کے پیچھے تو وہ نماز پڑھ نہیں سکتے اور بعض جگہ احمد ی صرف ایک ہی ہوتا ہے اس لئے اسے نماز باجماعت ادا کر نے کا موقع نہیں ملتا اور چونکہ نماز با جماعت ادا کرنے میں انسان کو وقت کی پابندی کرنی پڑتی ہے جب نماز با جماعت نہ ملے تو رفتہ رفتہ انسان ستی کرنی شروع کر دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں نے جماعت کے ساتھ تو نماز پڑھنی ہی نہیں جس وقت چاہوں گا