برگِ سبز — Page 87
برگ سبز ہوگا۔کیونکہ ایسے مشہور امر کا ان کی نگاہ سے اوجھل رہنا ناممکن ہے۔مزید برآں انجیل تو ہمیں ایک اور ایسے شخص کا پتہ دیتی ہے جو مسیح علیہ السلام کی طرح صرف بے باپ ہی نہیں تھا بلکہ بے ماں بے باپ اور بے نسب نامہ تھا چنانچہ لکھا ہے کہ : یہ ملک صدق سالم کا بادشاہ خدا تعالیٰ کا کا ہن ہمیشہ کا ہن رہتا ہے جب ابراہام بادشاہوں کو قتل کر کے واپس آتا تھا تو اس نے اس کا استقبال کیا اور اس کے لئے برکت چاہی۔۔۔یہ بے باپ اور بے ماں بے نسب نامہ ہے۔نہ اس کی عمر کا شروع نہ زندگی کا آخر بلکہ خدا کے بیٹے کا مشابہ ٹھہرا۔“ (عبرانیوں:3/7-1) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کو اگر بے باپ پیدا ہونے کی وجہ سے ہی کوئی نمایاں امتیازی مقام مل سکتا ہے تو ملک صدق اس سے زیادہ مقام کا مالک اور افضل ہوگا کیونکہ وہ نہ صرف بے باپ بلکہ بے ماں بے نسب نامہ ہے، اور خود انجیل کے مطابق خدا کے بیٹے کے مشابہ بھی۔پس پادری صاحب کی بیان کردہ اس الہامی امتیازی خصوصیت میں مسیح علیہ السلام کے علاوہ اور افراد بھی شامل ہیں۔اس لئے بہر صورت یہ مسیح کا کوئی امتیاز نہ رہا۔اس جگہ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کیا محض بے باپ پیدا ہونا کوئی فضیلت اور فخر کی بات ہے۔کیا بائبل میں کوئی ایسی واضح اور غیر مبہم تعلیم موجود ہے کہ بے باپ کے بیٹے کو ” ابن اللہ اور اور اقنوم ثانی تسلیم کیا جائے۔بائبل میں محترمہ کنواری کے ہاں بیٹا پیدا ہونے کا ذکر تو ضرور ہے لیکن اس کی کوئی غیر معمولی صفات بیان نہیں کی گئیں۔پھر اس مخصوص کنواری کے بیٹے کی علامت تو یہ تھی کہ اس کا نام ” عمانوایل رکھے گی اور ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کا نام آپ کی والدہ محترمہ نے عمانوایل نہیں رکھا تھا پھر اس جگہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس پیشگوئی 87